بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

الکحل والے پرفیوم کا استعمال کرنا


سوال

 جن پرفیومزاورباڈی اسپرے میں الکحل کی آمیزش ہو تو ان کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو  الکحل   انگور،کشمش اور کھجور کی شراب سے حاصل کیا گیا ہو وہ بالاتفاق ناپاک اور حرام ہے  جس کی خرید و فروخت اور کپڑوں میں لگ جانے کے بعد ان کا دھونا ضروری ہے جبکہ وہ الکحل کو مذکورہ اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز سے  بنا ہو مثلا،جو ،آلو،شہد ،گنا وغیرہ سے تواس کا استعمال جائز ہے۔ یا وہ  الکحل جو کیمیکل سے بنایا گیا ہو  اور وہ کیمیکل ناپاک اجزاء سے مرکب نہ ہو تو اس کا استعمال کرنا بھی  جائز ہے۔ 

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی پرفیوم میں الکحل کی آمیزش ہو اور وہ  انگور،کھجور یا کشمش  کی شراب سے تیار نہ کیا گیا ہو توایسے پرفیوم کا استعمال کرنا جائز ہے،اور عموما آج کل جو الکحل تیار کئے جاتے ہیں وہ ان مذکورہ اشیاء سے تیار نہیں ہوتے  ،البتہ اگر کسی پرفیوم کے بارے میں ظن غالب سے  معلوم ہو کہ اس میں   انگور،کھجور یا کشمش  سے تیار کردہ الکحل شامل ہے تو اس کا استعمال کرنا جائز نہیں۔

 

 وأما غير الأشربة الأربعة،فليست نجسة عندالإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى،وبهذا یتبین حکم الکحول المسکر التی عمت بھا البلوي اليوم.فإنها تستعمل في كثير من الأدوية والعطور والمرکبات الأخري،فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الی حلتھا   أو طھارتھا،و إن اتخذت من غیرھما فالأمر فيها سهل علي مذھب ابی حنیفة رحمه الله تعالي،و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع".(تکملة فتح الملہم،کتاب الأشرابة،ج:3ص:408)


فتویٰ نمبر : 6037/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں