بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

محفل حسنِ قراءت میں دوران تلاوت قارى صاحب کى خوبصورت آواز پراسے داد دینا


سوال

ہمارے ہاں محفل حسن قراءت میں مختلف مقامات سے قراء حضرات آتے ہیں، جب قاری صاحب تلاوت کرتے ہیں تو دوران تلاوت  سامعین کبھی اللہ اکبر اور کبھی سبحان اللہ وغیرہ الفاظ   كے ساتھ بلندآواز سے اسے داد  دیتے ہیں، تاکہ قاری صاحب  کی حوصلہ  افزائی ہو۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

قرآن کریم کى تلاوت کو پورے وقار اور ادب کے ساتھ سننے کا حکم دیا گیا ہے، ارشاد بارى تعالى ہے:

ترجمہ: "اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو، اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحمت ہو"۔

صورت مسؤلہ کے مطابق محفل حسنِ قراءت  میں دوران  تلاوت بلند آواز سے چلّا چلّا کر  قاری صاحب  کواس طرح داد دینا کہ جس سے محفل گونجنے لگے، ایسا کرنا قرآن کریم سننے کے آداب کے خلاف ہے، نیز بعض اوقات  یہ  داد موقع محل کے مطابق بھى نہیں ہوتى ، کیونکہ محض قارى صاحب کے خوبصورت لہجہ میں پڑھى گئى آیات پر "سبحان اللہ، ما شاء اللہ" کى داد دی جاتی ہے ، جبکہ ان آیات میں کسى وعید یا عذاب کا بیان ہوتا ہے، اس لیے تلاوت کے دوران خاموش رہنا چاہیے،  البتہ اگر اچھى قراءت کا طبیعت پر اثر ہو تو جب قارى صاحب تلاوت کے دوران تھوڑى دیر خاموش ہو  جائے تو اس دوران آہستہ آواز میں وقار کے ساتھ داد دے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَإذَا قُرِیٴَ القُراٰنُ فَاستَمِعُوا له وَأنصِتُوا لَعَلَّکُم تُرحَمُونَ﴾ (الأعراف، الآية: 204)

" ‌رفع ‌الصوت ‌عند ‌سماع ‌القرآن ‌والوعظ مكروه، وما يفعله الذين يدعون الوجد، والمحبة لا أصل له، ويمنع الصوفية من رفع الصوت، وتخريق الثياب،كذا في السراجية."(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الفصل الخامس في آداب المسجد، والقبلة، والمصحف، وما كتب فيه شيئ من القرآن، ج:5، ص:519)


فتویٰ نمبر : 6039/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں