بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ،باپ اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث


سوال

ایک شخص (محمد ابراہیم) روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات  پاگیا ،اس کے ورثا میں ایک بیوہ، ایک بیٹی ،والد،ایک بہن  اور دو بھائی  ہیں ،ہر ایک کا شرعی لحاظ سے وراثت میں کتنا حصہ ہوگا؟

جواب

میـــــــ(محمد ابراہیم)ــــــــــــ(8)ــــــت        

    بیوہ              بیٹی                 باپ   

    1                 4                    3

بشرط صدق ثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی اور قریبی وارث موجود نہ ہو تو بعد ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث  مرحوم کا ترکہ آٹھ (8) حصوں میں تقسیم ہو کر  بیوہ کو 8/1 حصہ، بیٹی کو 8/4 حصے اور والد کو 8/3 حصے دیے جائیں گے۔

 

قال الله تعالى:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ﴾  (النساء/11)

وقال ﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ (النساء/12)

واما الأب فله أحوال ثلاث... والفرض و التعصيب معا، وذلك مع الابنة أو ابنة الابن وان سفلت.(السراجي فى الميراث، باب مستحق الفروض و مستحقيها،مكتبة البشرى، ص:28)


فتویٰ نمبر : 3652/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں