بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ایڈوانس رقم لے کر زمین مزارعت پر دینا


سوال

ہماری زمین ہے، ایک کاشتکار نے ہمیں ایک لاکھ روپے ایڈوانس دیے اور یہ کہا کہ میں اس زمین میں کاشتکاری کروں گا جو فصل   حاصل ہوگی،آدھی آپ (مالک)کی  اور آدھی میری ہوگی اور اس  زمین پر جو خرچہ آتا ہے ،مثلا: ٹریکٹر ،یوریا وغیرہ کا ،وہ آدھا آپ کے ذمہ ہوگا اور آدھا میرے ذمے۔اور جو  ایک لاکھ روپے  ہمیں دیے ہیں ،ہم نے  اس سے کہا ہے کہ جب بھی آپ زمین چھوڑ دیں گے ،یہ ایک لاکھ روپے  آپ کو مکمل واپس کریں گے۔مفتی صاحب ہم نے سنا ہے کہ یہ سود ہے ،آپ وضاحت فرمائیں۔

جواب

فقہائے کرام نے مزارعت کے جواز کی تین صورتیں بیان کی  ہیں:

1)زمین ، بیج اور آلہ کاشت(بیل یا ٹریکٹر) مالکِ زمین کی طرف سے ہواور صرف عمل کاشتکار کی طرف سے ہو۔

2) زمین ایک کی طرف سے ہو، جب کہ بیج، عمل  اور آلہ کاشت، کاشتکار کی طرف سے ہو۔

3) زمین اور بیج مالکِ زمین کی طرف سے ہو، جب کہ عمل اور آلہ کاشت کاشتکار کی طرف سے ہو۔

صورت مسئولہ میں  ذکر شدہ صورت   مذکورہ بالا مزارعت کی  جائز صورتوں میں سے نہیں ہے ،لہذا یہ مزارعت  فاسدہ  ہو کر ناجائز ہے ۔ اس معاملہ کو ختم کیا جائے اور  جو رقم مالک زمین نے  بطور ایڈوانس لیے ہیں ،وہ واپس کرے۔

 

المزارعة أنواع منها أن تكون الأرض والبذر والبقر والآلة من جانب والعمل من جانب وهذا جائز لأن صاحب الأرض يصير مستأجرا للعامل لا غير ليعمل له في أرضه ببعض الخارج الذي هو نماء ملكه وهو البذر۔

 ومنها أن تكون الأرض من جانب والباقي كله من جانب وهذا أيضا جائز لأن العامل يصير مستأجرا للأرض لا غير ببعض الخارج الذي هو نماء ملكه وهو البذر۔

 ومنها أن تكون الأرض والبذر من جانب والبقر والآلة والعمل من جانب فهذا أيضا جائز۔۔۔۔ ومنها أن تكون الأرض والبقر من جانب والبذر والعمل من جانب وهذا لا يجوز في ظاهر الرواية وروي عن أبي يوسف أنه يجوز۔(بدائع الصنائع، كتاب المزارعة، فصل في أنواع المزارعة، ج:8، ص:271)


فتویٰ نمبر : 3652/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں