بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

"تہ پہ ما طلاقہ یے"ایک مرتبہ کہنے کے بعد "دا طلاقہ دہ،طلاقہ،طلاقہ دہ"تین مرتبہ کہنا


سوال

میرا  گھر میں بیوی کے ساتھ جھگڑا ہواتھا،اس دوران میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے"تہ پہ ما طلاقہ یے"۔جب میں نے یہ الفاظ کہےتو کسی نے میرے منہ  پر ہاتھ رکھا۔کچھ دیر بعد میں نے یوں کہا "دا طلاقہ دہ،طلاقہ،طلاقہ دہ"۔اس وقت میری بیوی دور کسی کمرے میں بند تھی،یہ دو،تین الفاظ لوگوں نے سنےہوں گےلیکن میری بیوی نے نہیں سنے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص تین یا تین سے زائد مرتبہ بیوی کو طلاق کے  الفاظ کہہ دے تو عورت مطلّقہ مغلّظہ ہو تی ہے ،خواہ  وہ سامنے موجود ہو یا نہ ہو ۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا پہلی مرتبہ "تہ پہ ما طلاقہ یے" کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ۔اور اس کے بعد تین مرتبہ"دا طلاقہ دہ،طلاقہ ،طلاقہ دہ " کہنے سے بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوئیں اور عورت مطلقہ مغلظہ ہو کر شوہر پر حرام ہوچکی ہے،لہذااب رجوع نہیں ہوسکتا۔

 

قال الله تعالى: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ(229)﴾ (البقرة:230،229)

وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا (الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج:1، ص:423)

وكرر لفظ الطلاق وقع الكل (الدرالمختار على صدر ردالمختار، كتاب الطلاق، باب طلاق غير مدخول بها، ج:4، ص:251)

أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق۔ (بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل في شرط النية في الکناية،ج:4، ص:214) 


فتویٰ نمبر : 7050/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں