بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوتیلی بیٹی کی اولاد سے پردہ


سوال

     عورت کے لیے سوتیلی بیٹی کی اولاد سے پردے کا کیا حکم ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے عورت کو اجنبی مردوں سے پردے کا حكم دیا ہے۔ تا ہم محارم ( وہ لوگ جن سے ہمیشہ کے لیے عورت کا نکاح حرام ہو) مثلا: باپ، بیٹا، چچا، ماموں وغیرہ، ان سے پردہ ضروری نہیں۔ چونکہ عورت کے لیے سوتیلی بیٹی کی اولاد  محرم ہے، لہذا ان سے پردہ کرنا لازم نہیں۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ (النور:31)

ثم اعلم أن معنى قوله سبحانه وتعالى: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ} [النور: 31] أي لا يظهر مواضع زينتهن الظاهرة والباطنة إلا لأزواجهن. والبعولة جمع بعل وهو الزوج أو آباؤهن ويدخل فيه الأجداد وآباء بعولتهن وقد صاروا محارم، أو أبنائهن، ويدخل فيهم النوازل أو أبناء بعولتهن فقد صاروا محارم أيضا.(البناية شرح الهداية، كتاب الكراهية، فصل في الوطء والنظر واللمس، ج:12، ص:154.)


فتویٰ نمبر : 6137/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں