بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کے ہاتھوں سےبنے ہوئے سالن کھانے کے ساتھ طلاق معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ "میں تیرے ہاتھوں کا سالن نہیں کھاؤنگا، اگر کھا لیا تو تجھے طلاق ہے" پھر اس نےاپنی بیوی اوردوسری عورت کے بنائے ہوئے دو الگ الگ سالن کو پلیٹ میں ڈال کر مکس کر کے کھا لیا ،جبکہ دوسری عورت کے ہاتھوں کا بنا ہوا سالن غالب (زیادہ)تھا۔ تو کیا اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہےاگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ نیزاگر کوئی طلاق کو بیوی کے ہاتھوں کے بنے ہوئے سالن کے ساتھ معلق کرے اور اس سالن کے ساتھ  دوسرا سالن مکس کر کے کھالے تو حانث ہو جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرکسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ " میں تیرے ہاتھوں کا سالن نہیں کھاؤں گا، اگر کھا لیا تو تجھے طلاق ہے" اور پھر اس نے اپنی بیوی اور دوسری عورت کے بنائے ہوئے دو الگ الگ سالن کو پلیٹ میں ڈال کر مکس کرکے کھا لیا تو اس سے طلاق واقع ہوجائے گی اگرچہ اس پر دوسری عورت کے ہاتھ کا بنا ہوا سالن غالب تھا۔

 

‌واذااضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420)

والأصل ‌في ‌هذا ‌أن ‌المحلوف ‌عليه ‌إذا ‌اختلط بغير جنسه تعتبر فيه الغلبة بلا خلاف بين أبي يوسف ومحمد وإذا اختلط المحلوف عليه بجنسه كاللبن المحلوف عليه إذا اختلط بلبن آخر قال أبو يوسف هذا والأول سواء وتعتبر فيه الغلبة وإن كان الغلبة لغير المحلوف عليه لم يحنث وقال محمد يحنث وإن كان مغلوبا فمن أصل محمد أن الشيء لا يصير مستهلكا بجنسه وإنما يصير مستهلكا بغير جنسه وإذا لم يصر مستهلكا بجنسه صار كأنه غير مغلوب. (بدائع الصنائع، كتاب الأيمان، ج:4، ص:132)

وإذا اختلط لبن امرأتين تعلق التحريم بأغلبهما عند أبي يوسف؛ لأن الكل صار شيئًا واحدًا، فيجعل الأقل تابعًا للأكثر في بناء الحكم عليه) …  )وقال زفر ومحمد: يتعلق التحريم بهما) أي يتعلق التحريم بالمرأتين (لأن الجنس لا يغلب الجنس، فإن الشيء لا يصير مستهلكًا في جنسه، وإنما يصير مستهلكًا في غير جنسه لاتحاد المقصود)أي لاتحاد مقصودهم، فلا ينتفي القليل، ويتعلق به التحريم (وعن أبي حنيفة - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - في هذا روايتان) في رواية، كما قال أبو يوسف، وبه قال الشافعي في قول. وفي رواية كما قال محمد، وهو قول زفر والشافعي في قول. وفي " الغاية ": وقول محمد أظهر وأحوط فيه(وأصل المسألة في الإيمان) أي فيما إذا حلف أن لا يشرب من لبن هذه البقرة وانخلط لبنها بلبن بقرة أخرى فشربه، فهو على الخلاف المذكور، فعند محمد يحنث، لأن الجنس لا يغلب على الجنس، وعندهما: لا يحنث. ) البناية شرح الهداية، كتاب الرضاع، ج:5، ص:272)


فتویٰ نمبر : 7065/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں