بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی میراث میں اس کے شوہر کے ورثا کا حق


سوال

امین شاہ جب وفات ہوا ،تو اس کی اولاد نہیں تھی ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کی بیوی کو شوہر سے میراث میں جو حصہ ملا ہے، بیوی کی وفات کے بعد شوہر کے ورثا میں تقسیم ہو گا یا بیوی کے ورثا میں تقسیم کیا جائے گا؟

جواب

اگر کوئی شخص مرجائے  تو اس کا ترکہ بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث  اس کے اپنے شرعی ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق بیوی کی وفات کے بعد ، شوہر سے ملنے والا حصہ ، اس کے اپنے ورثا میں تقسیم ہو گا، شوہر کے ورثا میں نہیں۔

 

"قال علماؤنا رحمھم اللہ: تتعلق بترکۃ المیت حقوق أربعۃ مرتبۃ: الأول: یبدأ بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ، ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقي بعد الدین، ثم یقسم الباقي بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ وإجماع الأمۃ."(السراجي في الميراث، باب الحقوق المتعلقة بتركة الميت، ص:5.)


فتویٰ نمبر : 3653/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں