بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

‌لڑکی کی اجازت کے بغیر ولی کا نکاح کرنا


سوال

 2011  میں میرے بھائی کے نکاح کی تقریب منعقد کی گئی تھی جب نکاح ہواتو سب میرے بھائی کو مبارک باددے رہے تھے اس وقت میرے گھر والوں نے مجھے بھی مبارکباد دینا شروع کی کہ آپ کا بھی نکاح ہواہے حالانکہ مجھے اس کاعلم بھی نہیں تھا اور نہ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ کو قبول ہے بھی یا نہیں، جب میرے والد صاحب گھرآئے تو میں نےاس سے پوچھا کہ کیا میرا نکاح بھی ہوگیا اس نے کہا کہ ہاں میں نے آپ کا نکاح بھی تیرے ماموں زاد بھائی سے کیاتومیں نے کہا کہ میں اس پرراضی نہیں ہوں اورنہ میں اس کوقبول کرتی ہوں اس وقت میری عمر 18 سال تھی یعنی بالغہ عاقلہ تھی اس نکاح میں میری رضا شامل نہیں تھی توکیا میری رضا نہ ہونےاور میرا قبول نہ کرنے کے باوجود نکاح منعقد ہوایا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیرکرادے تو یہ نکاح اس کی اجازت پرموقوف رہے گا اگر اس نے اطلاع ملنے پررضامندی  کا اظہار کردیا،تو یہ نکاح منعقد ہوجائے گا،اور اگر نارضگی کا اظہار کرکےانکار کیا تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔

صورت  مسئولہ کے مطابق اگر عاقلہ بالغہ لڑکی کی رضامندی واجازت کے بغیر اس کے والد نےاس کا نکاح اس کے ماموں زاد بھائی سے کروادیا ہو،جبکہ  لڑکی نے اس نکاح پررضامندی کا اظہارنہ کیا ہو ،تو اس صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوا،اور لڑکی بدستور غیر منکوحہ رہے گی۔

 

لا ‌يجوز ‌نكاح ‌أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج. ولو ضحكت البكر عند الاستئمار أو بعدما بلغها الخبر فهو رضا.(الفتاوی الهندية،باب وقت الدخول بالصغيرة،ج:1،ص:287)

(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن ‌استأذنها ‌هو) ‌أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو فضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت فهو إذن).( الدر المختار شرح تنوير الأبصار،باب الولي، ص:183)


فتویٰ نمبر : 7055/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں