بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر انزال کے وطی فی الدبر سےحرمت مصاہرت


سوال

اگرکوئی کسی عورت کوبغیر کسی حائل کےصرف ہاتھ سے شہوت کے ساتھ چھولے ،اور چھونے سے پہلے جماع کاخیال بالکل نہ ہو، لیکن چھوتےوقت  وطی فی الدبر کاخیال پیدا ہوا ہو اورپھروطی فی الدبرکا ارتکاب کر کےانزال سے پہلے ہٹ گیا ہویعنی وطی فی الدبر کرچکا ہو لیکن انزال نہیں کیاہو تو کیا اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں ؟نیزیہ بھی  بتادیں کہ وطی فی الدبر کی صورت میں اگر کوئی بغیر انزال کے ہٹ جائےتو اس کا کیا حکم ہے ،اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اس طرح ان امور (دواعی جماع )سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے جو زنا کے ارتکاب کی طرف لے جانے والے ہوں،جس سے دونوں کےاصول وفروع ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں،البتہ اس میں شرط یہ ہےکہ انزال نہ ہوا ہو ۔اور وطی فی الدبر  کی صورت میں اکثر فقہائے احناف کی رائے یہ ہے،کہ اگر کوئی وطی فی الدبر کی خواہش سے کسی عورت کو چھولے یا وطی فی الدبر کرے ،لیکن انزال سے پہلے ہٹ جائے تو مس بالشہوۃ کے اصول کو مد نظر رکھ کرراجح قول کے مطابق اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی۔اور جس وطی فی الدبر سے فقہا نے حرمت کے ثابت نہ ہونے کو بیان کیا ہے تو اس میں انزال کو شرط قرار دیا گیا ہے۔

صورت مسئو لہ  کےمطابق پہلی صورت جس میں وطی فی الدبر کا خیال پیدا ہوا ہے اور اسی کی خواہش سے عورت کو چھوا ہے ،اور بغیر انزال کے ہٹ گیا ہے تو  اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوچکی ہے ۔اور ردوسری صورت  جس میں وطی کا ارتکاب کیا گیا ہے، لیکن بغیر انزال کے ہٹ گیا ہے تو اس صورت میں بھی راجح قول کے مطابق حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے؛اس لیے کہ وطی فی الدبر  کی صورت میں حرمت مصاہرت کے ثابت نہ ہونے کے لیے  انزال شرط ہے،اور وہ یہاں نہیں پایا گیا ہے۔

 

(والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة)وقال الزیلعي:والوطء إنما صار محرما من حيث إنه سبب للجزئية بواسطة ولد يضاف إلى كل واحد منهما كاملا‌‌،و قال المحشی الشیخ الشلبی:قوله في المتن:(والزنا واللمس) أي في سائر الأعضاء. اهـ. أتقاني (قوله: والنظر بشهوة) الشهوة قيد في اللمس والنظر)تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق وحاشيةالشلبي کتاب النکاح،باب المحرمات،ج:2،ص:469)

وقال المرغینانی:ولنا أن المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط۔(الهداية،کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات،ج:3،ص:14)

ولا تثبت بالنظر إلی سائر الاعضاء بشهوة،ولا بمس سائر الأعضاء إلا عن شهوة بلا خلاف (بدائع الصنائع،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،و أما الفرقة الرابعة۔۔۔۔۔،ج:3،ص:423)

وأطلق فی اللمس فشمل کل موضع من بدنها ( البحر الرائق،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:3،ص:176)

وعن مالك روايتان، لنا عموم قوله تعالی:﴿وَلا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾(النساء: ٢٢) ولأن كل تحريم تعلق بالوطء الحلال تعلق بالوطء الحرام ولأنه إستمتاع كالحلال وفيه رمز إلى أنه لو أتاها في دبرها لم يحرم عليه فروعها على الصحيح كما في أكثر المعتبرات لكن هذا ليس بإطلاقه بل لو أتاها في دبرها فأنزل أما إذا لم ينزل فتثبت حرمة المصاهرة بالإجماع؛لأن اللمس بشهوة يوجبها إذا لم ينزل فالإتيان في دبرها يوجبها بطریق الأولى مع عدم الإنزال۔(مجمع الأنهرشرح ملتقی الأبحر،کتاب النکاح،باب المحرمات،ج:1،ص:326)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں