بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر فوت ہونےکی صورت میں بیوی کے لیے اس کا چہرہ دیکھنے کا حکم


سوال

کیا عورت اپنے فوت شدہ شوہر کا چہرہ دیکھ سکتی ہے، جب کہ نکاح تو فوت ہونے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کی بیوی اس کی حالتِ زندگی میں اس سے طلاقِ بائن یا طلاقِ مغلظہ کے ذریعےجدا نہ ہوئی ہو تو اس کی وفات کے بعد ان کا نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ عدت گزارنے تک وہ اس کی بیوی شمار ہو گی ۔ لہذا جس طرح حالتِ زندگی میں بیوی کے لیے شوہر کی طرف دیکھنا جائز ہے ، اسی طرح وفات کے بعد بھی  اپنے  شوہر کا چہرہ دیکھنا جائز ہے۔

 

(وَيُمْنَعُ زَوْجُهَا مِنْ غُسْلِهَا وَمَسِّهَا لَا مِنْ النَّظَرِ إلَيْهَا عَلَى الْأَصَحِّ). . .( (وَهِيَ لَا تُمْنَعُ مِنْ ذَلِكَ) قال ابن عابدين: (قوله وهي لا تمنع من ذلك) أي من تغسيل زوجها دخل بها أو لا كما في المعراج ومثله في البحر عن المجتبى. قلت: أي لأنها تلزمها عدة الوفاة، ولو لم يدخل بها، وفي البدائع: المرأة تغسل زوجها؛ لأن إباحة الغسل مستفادة بالنكاح، فتبقى ما بقي النكاح، والنكاح بعد الموت باق إلى أن تنقضي العدة بخلاف ما إذا ماتت فلا يغسلها لانتهاء ملك النكاح لعدم المحل فصار أجنبيا، وهذا إذا لم تثبت البينونة بينهما في حال حياة الزوج،فإن ثبتت بأن طلقها بائنا، أو ثلاثا ثم مات لا تغسله لارتفاع الملك بالإبانة إلخ. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلوة، ‌‌باب: صلاة الجنازة، ج:2، ص:198.)


فتویٰ نمبر : 6033/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں