بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تین ماہ کا حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والے خون کا حکم


سوال

ایک عورت کے تین ماہ اور دس دن کا حمل ضائع ہوگیا ہے،اور اس کے بعد تیرہ دن تک عورت سے خون بہتا رہا، پھر   پانچ دن عورت پاک رہی،اور اس کے بعد پھر عورت کو خون آگیا،اب سوال یہ ہے کہ جن پانچ دنوں میں عورت پاک تھی    اس  میں   وہ نماز بھی پڑھتی رہی  اور شوہر نے  اس کے ساتھ جماع بھی کیا،کیا ان پانچ دنوں کی نماز جائز ہے یا نہیں ؟ اور کیا ان پانچ دنوں میں   شوہر کا بیوی کےساتھ  صحبت جائز تھا یا نہیں؟

جواب

فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر حمل ساقط ہوجائے  تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ساقط شدہ حمل کے اعضا (ہاتھ،پاؤں وغیرہ)ظاہر ہوچکے ہوں تو اس کے بعدآنے والا خون نفاس  شمار ہوگا۔ اور اگرضائع شدہ حمل کے اعضا ظاہر نہ ہوئے ہوں تو اگر خون تین دن یا اس سے ذیادہ جاری رہا اور اس خون کے آنے سے پہلے  عورت پندرہ دن  پاک رہ چکی ہو تو یہ حیض کا خون  شمار ہوگا،لہذا اس میں نہ عورت کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے اور نہ ہی شوہر اس سے صحبت کرسکتا ہے۔اور   اگر تین دن سے کم جاری رہایا اس سے پہلے پندرہ دن طہر کے نہ گزرے ہوں تویہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا۔ لہذا اس میں نماز پڑھے گی  اور شوہر کے ساتھ صحبت کرنے کی اجازت ہے۔اور اگر خون دس دن سے زیادہ  جاری رہا تو عادت کے بقدر دن حیض کے شمار ہوں گے اور باقی استحاضہ کا خون شمار ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق   عورت کا حمل ضائع ہو تے وقت اگر حمل کے اعضا  ظاہر ہوچکےتھے تو حمل ساقط ہونے کے بعد جاری ہونے والا خون نفاس کا  ہو گا۔ لہذا  عورت کے لیے نماز پڑھنا اور شوہر کے ساتھ  صحبت کرنا جائز نہیں۔تاہم اگر حمل کے  ضائع ہونے  کےوقت حمل کے اعضا ظاہر نہ ہوئے تھے تو ان تیرہ دنوں  میں   سےعورت کی عادت کے بقدر حیض  کے دن شمار ہوں گے،لہذا اس میں نماز پڑھنا بھی جائز نہیں اور شوہر کے ساتھ صحبت بھی جائز نہیں۔ اور عادت سے زائد دن استحاضہ کے شمار ہوں گے،اور  پھر پانچ دن جب عورت پاک تھی تو اس دوران  عورت کے لیے نماز پڑھنا بھی جائز تھا اور شوہر کا اس کے ساتھ صحبت کرنا بھی جائز تھا۔

 

(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر۔۔۔ (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة. (قوله وإلا استحاضة) أي إن لم يدم ثلاثا وتقدمه طهر تام، أو دام ثلاثا ولم يتقدمه طهر تام، أو لم يدم ثلاثا ولا تقدمه طهر تام۔ (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:302/303)

(قوله: ‌والسقط ‌إن ‌ظهر ‌بعض ‌خلقه ولدا) وهو بالكسر والتثليث لغة، كذا في المصباح وهو الولد الساقط قبل تمامه وهو كالساقط بعد تمامه في الأحكام فتصير المرأة به نفساء وتنقضي به العدة۔۔۔ولا يستبين خلقه إلا في مائة وعشرين يوما، كذا ذكره الشارح الزيلعي في باب ثبوت النسب والمراد نفخ الروح وإلا فالمشاهد ظهور خلقته قبلها۔ (البحرالرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الطہارۃ، احکام النفاس، ج:1، ص:239)

(منها) أن يسقط عن الحائض والنفساء الصلاة فلا تقضي.۔۔۔ (ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج:1، ص: 38/39)

(ودم الاستحاضة) كالرعاف الدائم لا يمنع الصلاة ولا الصوم ولا الوطء. كذا في الهداية۔ ( (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج:1، ص: 39)


فتویٰ نمبر : 10230/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں