بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
مجلس میں آپ ﷺکا اسم گرامی سننے پر درود پڑھنے کا حکم
سوال
اگر مجلس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ذاتی نام لیا جائےتو دورد شریف پڑھنا واجب ہوتا ہےیا صفاتی نام سے بھی واجب ہوتا ہے ؟ اگر مجلس میں بعض لوگ دورد شریف پڑھ لیں تو باقیوں کا ذمہ فارغ ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ پر زندگی میں ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا فرض ہے اور جس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہو تو اس مجلس میں ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا واجب ہے، ایک سے زائد بار آپ ﷺ کا نام گرامی آنے کی صورت میں بار بار درود پڑھنا مستحب ہے، نیز آپ ﷺ کا اسم گرامی سننا ہی ضروری نہیں ، بلکہ آپ کے صفاتی نام یا کوئی بھی ایسا لفظ جو نبی کریم ﷺ کے ذکر پر دلالت کرنے والاہو ، اسے سنتے وقت درود پاک پڑھنا چاہیے، چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے ذکر کے وقت ان کی تعظیم اور شرف کا اظہار کرنا مقصود ہے، اس لیے اگر پوری مجلس میں بعض لوگوں نے بھی آپ کا نام مبارک سن کر ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کہہ دیا تو اس صورت میں مقصود حاصل ہوجانے کی وجہ سے دوسروں کے حق میں اس کی ادائیگی ساقط ہوجاتی ہے۔
"قال اللہ تعالی:إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:56)
والآية تدل على وجوب الصلاة والسّلام فى الجملة ولو فى العمر مرة وبه قال ابو حنيفة ومالك رحمهما الله واختاره الطحاوي قال ابن الهمام موجب الأمر القاطع الافتراض فى العمر مرة لانه لا يقتضى التكرار"۔ (التفسير للمظهري،ج:5، ص:554)
"وقد اختلف أهل العلم في الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم هل هي واجبة أم مستحبة؟ بعد اتفاقهم على أن الصلاة عليه فرض في العمر مرة".(فتح القدیر، ج:4، ص:427)
"ولو سمع اسم النبي عليه السلام فإنه يصلي عليه، فإن سمع مرارا في مجلس واحد اختلفوا فيه قال بعضهم لا يجب عليه أن يصلي إلا مرة،كذا في فتاوى قاضيخان.وبه يفتى"۔( الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الباب الرابع في الصلاة والتسبيح،ج:5، ص:364)
"(واختلف) الطحاوي والكرخي (في وجوبها) على السامع والذاكر (كلما ذكر) صلى الله عليه وسلم (والمختار) عند الطحاوي (تكراره) أي الوجوب (كلما ذكر) ولو اتحد المجلس في الأصح لا لأن الأمر يقتضي التكرار، بل لأنه تعلق وجوبها بسبب متكرر وهو الذكر، فيتكرر بتكرره وتصير دينا بالترك، فتقضى لأنها حق عبد كالتشميت بخلاف ذكره تعالى (والمذهب استحبابه) أي التكرار وعليه الفتوى؛ والمعتمد من المذهب قول الطحاوي، كذا ذكره الباقاني تبعا لما صححه الحلبي وغيره ورجحه في البحر بأحاديث الوعيد: كرغم وإبعاد وشقاء وبخل وجفاء، ثم قال: فتكون فرضا في العمر، وواجبا كلما ذكر على الصحيح۔
(قوله في وجوبها) أي وجوب الصلاة عليه صلى الله عليه وسلم ولم يذكر السلام، لأن المراد بقوله تعالى {وسلموا} [الأحزاب: 56] أي لقضائه كما في النهاية عن مبسوط شيخ الإسلام: أي فالمراد بالسلام الانقياد، وعزاه القهستاني إلى الأكثرين (قوله والذاكر) أي ذاكر اسمه الشريف صلى الله عليه وسلم ابتداء لا في ضمن الصلاة عليه كما صرح به في شرح المجمع، وفيه كلام سيأتي (قوله عند الطحاوي) قيد به لأن المختار في المذهب الاستحباب، وتبع الطحاوي جماعة من الحنفية والحليمي وجماعة من الشافعية، وحكى عن اللخمي من المالكية وابن بطة من الحنابلة، وقال ابن العربي من المالكية: إنه الأحوط، كذا في شرح الفاسي على الدلائل، ويأتي أنه المعتمد.(قوله تكراره أي الوجوب) قيد القرماني في شرح مقدمة أبي الليث وجوب التكرار عند الطحاوي بكونه على سبيل الكفاية لا العين، وقال: فإذا صلى عليه بعضهم يسقط عن الباقين، لحصول المقصود وهو تعظيمه وإظهار شرفه عند ذكر اسمه صلى الله عليه وسلم"۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلوة، مطلب في وجوب الصلاة عليه كلما ذكر عليه الصلاة والسلام، ج:1، ص:516)
"سواء ذکر باسمہ الظاھر أو بضمیر"۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار،کتاب الصلاۃ، باب في التشهد ج:1، ص:228)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں