بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کےلیے ماہواری کے ایام میں سورۃ مزمل کی تلاوت کرنا


سوال

مخصوص ایام میں عورت کا تلاوت کرنا کیسا ہے؟ ایک خاتون کو کسی نے بتایا ہے کہ روزانہ سورت مزمل کی تلاوت کرنی ہے، حتیٰ کہ مخصوص ایام میں بھی ناغہ نہیں کرنا ہے۔  شرعا  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عورت کےلیے ماہواری کے ایام میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں، البتہ  جن آیات یا سورتوں میں ذکر، ثنا یا دعا کا معنی پایاجاتا ہو توان کو دعا یا ذکر و تسبیح کی نیت سے پڑھنا جائز ہے۔  صورت مسئولہ کے مطابق سورۃ مزمل میں چونکہ بعض آیات  دعا اور ثنا کے معنی پر مشتمل ہیں، ليكن بعض دیگر آیات میں دعا یا ثنا کا معنی نہیں پایاجاتا، اس لیےعورت کےلیے مخصوص ایام میں  سورۃ مزمل کی تلاوت کرنا جائز نہیں۔

 

(قوله وقراءة قرآن) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور كما قدمه المصنف (قوله بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به كما قدمناه عن العيون لأبي الليث وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص: 293)

فإن لم تقصدها نحو أن تقرأ الحمد لله رب العالمين شكراً للنعمة فلا بأس به، وذكر الصدر الشهيد رحمه الله في مختصر كتاب الحيض أن الآية إذا كانت طويلة فقرأتها حرام عليها۔ ( المحيط البرهاني، كتاب الطهارة، ‌‌الفصل الثامن في الحيض، ج: 1، ص: 217)


فتویٰ نمبر : 10233/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں