بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اصل قیمت سے زائدرقم کا بل بنانا


سوال

میں سنیٹری کا کاریگر (پلمبر)ہوں  کبھی کھبار جس کے لیے کام کرتاہوں ،وہ مجھ سےکہتا ہے  کہ سنیٹری کا سامان آپ خود بازار سے لائیں،میں  اپ کو پیسے دوں گا، لیکن میں  جب سامان لاتا ہوں تو بل میں اصل قیمت  مثلاًکسی چیز کی قیمت سو(100) کی بجائےایک سو دس(110) لکھ دیتا ہوں  ،اس زیادہ رقم سے کرایہ اور اسی دن کی مزدوری لیتا ہوں، شرعاً یہ کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کوکو ئی چیز خریدنے کے لیے اپناوکیل بنائے تو جس قیمت  پر وکیل  وہ چیز خریدے تو وہی  قیمت   مؤکل سے وصول کرسکتا ہےاس سے زیادہ قیمت وصول نہیں کر سکتا ۔لہذاوکیل کا موکل سے جھوٹ اور دھوکہ  دہی سے کام لیکر اصل قیمت سے زیادہ  کا مطالبہ کرنا جائز نہیں البتہ بطورِ وکیل  کام کرنے پر وکیل اجرت  لے سکتا  ہے،  بشرط یہ کہ وکالت کے وقت صراحۃً  اجرت متعین کی گئی ہو، یا پھر وکیل اجرت کے بدلے کام کرنے میں مشہور ہو، تو ایسی صورت میں اجرت مثل لے سکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں سائل چونکہ وکیل ہے ،اس لیے اس کے لیے بل بناتے وقت اصل  قیمت  کی بجائے زیادہ قیمت لکھ دینا  جھوٹ  اور کذب  بیانی  کے زمرے میں داخل ہو کر ناجائز اور حرام ہے ۔تاہم اگر مؤکل  سے وکالت کے وقت اجرت طے ہوئی تھی تو پھر اس سے  اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے اسی طرح سامان لانے پر جو خرچہ آتا ہے  ،موکل سے  اس کا مطالبہ کرسکتاہے ۔

 

عن حبيب بن النعمان الأسدي، عن خريم بن فاتك الأسدي، قال: صلى النبي صلى الله عليه وسلم الصبح، فلما انصرف قام قائما، فقال: "عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله" ثلاث مرات، ثم تلا هذه الآية {واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به}۔(سنن ابن ماجه،أبواب الأحكام،باب شهادة الزور،ج:2،ص:794)

عن النواس بن سمعان الأنصاري. قال:سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم؟ فقال "‌البر ‌حسن ‌الخلق. والإثم ما حاك في صدرك، وكرهت أن يطلع عليه الناس".( صحيح مسلم، باب تفسير البر والإثم، رقم الحديث:2553)

 إذا ‌اشترطت ‌الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة المسماة ۔۔۔۔وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعافليس له أن يطالب بالأجروأما إذا كان ممن يخدم بالأجرة،فله أجرمثله ؛لأن المعروف كالمشروط شرطاّ.  (شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الحادى العشر في الوكالة،الباب الثالث في احكام الوكالة:الماده،1467،ص789) 


فتویٰ نمبر : 3650/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں