بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

والدین کے بعد پنشن لینے کا حکم


سوال

میرےوالد صاحب سرکاری ملازم تھے، ریٹائر منٹ کے بعد  خود پنشن لیتےتھے  ،  جب والد صاحب فوت ہوئے تو پنشن والدہ کے نام پر منتقل ہوئی،  والدہ کی وفات کے   بعد میری  ایک کنواری بہن    کے نام پر منتقل ہوگئی تھی  ،اب اس کی شادی ہو گئ   ہے۔کیا میری بہن کی شادی ہونے کے بعد بھی وہ پنشن  لینے کی حقدار ہے یانہیں یا کسی اور  وارث کا حق ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ پنشن حکومت کی جانب سے سرکاری ملازم کے لیےایک  عطیہ ہوتی ہے جو اس کی زندگی میں اس کو ملتی رہتی ہے اور اس کی وفات کے بعد قوانین کے مطابق یہ پنشن کسی وارث کے نام کر دی جاتی ہے   وہی اس کا مالک ہوتا ہے  ۔

صورت مسؤلہ میں سائل كے والد كی  وفات كے بعد جو پنشن والده كو پھراس کی کنواری بہن کو ملتی تھی تو چونکہ قانون کے مطابق  پنشن کی رقم شادی شدہ بیٹی  کو نہیں ملتی ہے،لہذا  وہ پنشن  لینے کی حقدار نہیں۔ اس لیے ضروری ہےکہ حکومت کو اس عورت کی شادی  کی اطلاع كردی جائے ، پھراگرحکومتی قوانین کے مطابق پنشن كسی کے نام جاری کر دی جائے تو وہ اس کا حقدار متصور  ہوگا اور اگر قوانین کے مطابق کوئی اور اس کا مستحق نہ ہو  تو اس کو بند کیا جائے ۔

 

"أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض." بدائع الصنائع،کتاب الهبة،ج: 6، ص: 127)

لأن ‌الإرث ‌إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال "عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته" ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛۔(بدائع الصنايع، كتاب الحدود،فصل في شرائط جواز إقامة الحدود،ج:7،ص:57

العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية۔ (شرح الأشباه والنظائر، ج:2، ص:495)      


فتویٰ نمبر : 6029/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں