بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوتیلی ماں کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا


سوال

 میرے باپ نے ایک عورت سے  شادی کی تھی جس کو چند مہینوں بعد طلاق دے دی۔ اُس عورت نےپھردوسرے شخص سے شادی کر لی  جس سے اُس کی ایک بیٹی ہے۔ کیا اُس کی اِس بیٹی سے میرا نکاح جائز ہے؟

جواب

کسی شخص کا اپنی سوتیلی ماں کی اس بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے، جو اس کے باپ سے نہ ہو، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ بھی نہ پائی جائے۔

صورت مسئولہ میں سائل کا اپنے والد کی مطلقہ بیوی کے دوسرے شوہر سے جو بیٹی ہے، اس سے نکاح شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے۔

 

(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر. قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:31.)


فتویٰ نمبر : 7056/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں