بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/08/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ طور پر موٹر سائیکل خرید کر مشترکہ استعمال میں لانا


سوال

ہم تین ساتھی مشترکہ طور پر ایک موٹر سائیکل خریدنا چاہتے ہیں، جو مشترکہ طور پر مدرسہ اور دیگر مقامات کے لیے استعمال کریں گے۔ کیا اس قسم کی شراکت کا معاملہ کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر دو یا دو سے زیادہ افراد مشترکہ طور پر کوئی چیز خرید کر اس سے منفعت حاصل کرنا چاہیں، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔ نیز شرکا باہم رضا مندی سے انتفاع کا کوئی طریقہ متعین کرسکتےہیں، مثلاً شرکا آپس میں الگ الگ باری مقرر کرلیں کہ ایک مہینہ ایک  شریک استعمال کرے گا اور دوسرے مہینے میں دوسرا شریک استعمال کرےگا۔ یا باہم رضامندی سے ضرورت کے مطابق مشترکہ چیز استعمال کرتے رہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر تین ساتھی مشترکہ طور پر ایک موٹر سائیکل خرید کر مشترکہ طور پر استعمال  کرنا چاہتے ہیں، تو شرعاً یہ جائز ہے۔

 

الشركة اختصاص الشريكين فصاعدا بمحلة واحدة.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الشركة، ج:7، ص:457)

الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما، كذا في التهذيب ۔ ۔ ۔  وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان، كذا في الاختيار شرح المختار،.(الفتاوى الهندية ۔كتاب الشركة، الباب الأول في بيان أنواع الشركة ۔ ۔ ۔، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج:2، ص:301)


فتویٰ نمبر : 3645/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں