بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بلا عذر نفل روزہ توڑنا
سوال
کیا نفل روزہ بغیر کسی عذر کے توڑنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
نفلی روزہ شروع کرنے کے بعد جب تک کوئی عذر لاحق نہ ہو اس کو افطار نہیں کرناچاہیے۔ فقہائے حنفیہ کے ہاں بغیر عذر کے نفلی روزہ توڑنا مکروہ ہے۔ علامہ طحطاوی ؒ نے کراہت سے کراہتِ تحریمی مراد لی ہے، لہذا بغیرعذر کے روزہ توڑنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
"ويجوز للمتطوع" بالصوم "الفطر بلا عذر في رواية" عن أبي يوسف قال الكمال واعتقادي أنها أوجه لما روى مسلم عن عائشة رضي الله عنها قالت دخل النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال: "هل عندكم شيء؟ " فقلنا: "لا" فقال: "إني إذا صائم" ثم أتى في يوم آخر فقلنا يا رسول الله أهدي إلينا حيس فقال: "أرينه ففلد أصبحت صائما" فأكل وزاد النسائي: "ولكن أصوم يوما مكانه" وصحح هذه الزيادة أبو محمد عبد الحق وذكر الكرخي وأبو بكر أنه ليس له أن يفطر إلا من عذر وهو ظاهر الرواية لما روي أنه عليه الصلاة والسلام قال: "إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب فإن كان مفطرا فليأكل وإن كان صائما فليصل" أي فليدع قال القرطبي: ثبت هذا الحديث عنه عليه الصلاة والسلام ولو كان الفطر جائزا كان الأفضل الفطر لإجابة الدعوة التي هي السنة وصححه في المحيط. اعلم أن فساد الصوم والصلاة بلا عذر بعد الشروع فيهما نفلا مكروه وليس بحرام لأن الدليل ليس قطعي الدلالة وإن لزم القضاء وإذا عرض عذر أبيح للمتطوع الفطر اتفاقا.(مراقي الفلاح شرح نورالايضاح، ص(260،261)
قوله: "مكروه" الظاهر من إطلاقهم أنها كراهة تحريم قوله: "لأن الدليل" وهو قوله تعالى: ﴿ وَلا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴾ قوله: "ليس قطعي الدلالة" لاحتمال أن يكون المعنى والله تعالى أعلم.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الايضاح، كتاب الصوم، فصل في العوارض، ص:690)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں