بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بیع میں شرط لگانا
سوال
کیا ایسی بیع جائز ہےکہ بائع پہلے گاہک کیساتھ طے کرے کہ میں یہ فلاں چیز خریدتاہوں نقد پر بشرطیکہ تو مجھ سے نسیئۃ ًربح کیساتھ خریدوگے۔ یا مشتری کہے کہ تم فلاں چیز نقد پر خریدواور میں تجھ سے نسیئًۃ خریدوں گا ؟
جواب
مستقبل میں کسی چیز کے خریدنے یا فروخت کرنے کا کسی سے وعدہ کرنا اس طورپر ہے کہ اسے ابھی سے لازم نہ سمجھا جائے اور بائع ثمن میں جبکہ مشتری مبیع میں با قاعدہ بیع سے پہلے کسی قسم کے تصرف کا حق نہ رکھتے ہوں تو یہ وعدہ بیع کہلاتا ہے، لہذا اگر بائع مستقبل میں کوئی چیز مشتری پر فروخت کرنے یا مشتری مستقبل میں کوئی چیز خریدنے کا وعدہ کرے تو یہ وعدہ بیع ہے جو جائز ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بائع گاہک سے کہے کہ میں فلاں چیز خریدتا ہو اس شرط پر کہ تم مجھ سے وہ چیز خریدوگے،یا مشتری بائع سے کہے کہ تم فلاں چیز خرید لو میں تم سے خریدوں گا یہ وعدہ بیع ہے جو شرعا جائز ہے۔
قال الله تعالى: وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا (سورۃ الإسراء: آيت نمبر34)
عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة: اصدقوا إذا حدثتم، وأوفوا إذا وعدتم، وأدوا إذا التمتم، واحفظوا فروجكم، وغضوا أبصاركم، وكفوا أيديكم (السنن الكبرى للبيهقي، باب ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات، ص: 6، حديث نمبر : 288)
"قال رحمه الله: (لا ينعقد بلفظين:أحدهما الماضي،والآخر بلفظ المستقبل) وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده، فكان الانعقاد مقتصرا عليه، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة." (العناية شرح الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص:458)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں