بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ادھار زیادہ قیمت پرموٹرسائیکل خریدنا


سوال

میں دکاندار سے موٹر سائیکل خریدنا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس نقد رقم کم ہے اور قسطوں پر خریدنے کی صورت میں دکاندار زیادہ قیمت پر فروخت کرتاہے، تو کیا میرے لیے ادھار زیادہ قیمت پر موٹر سائیکل خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ نے بیع وشراء کی درستگی کے لیے عقد کے وقت قیمت متعین کرنا ضروری قرار دیا ہے۔بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی سے نقد  کی صورت میں کم قیمت اور قسط وار کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا شرعا درست ہے۔ بشرطیکہ عقد کے وقت قسط وار یا نقد میں سے کوئی ایک صورت متعین ہو جائے۔ نیز قسط وار فروخت کرنے میں عقد کی درستگی کی لیےیہ بھی ضروری ہے کہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ متعین ہوجائے۔ اور یہ بھی لازم ہے کہ ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافہ کی شرط نہ لگائی جائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  دکاندارسے موٹر سائیکل نقد کی بنسبت قسط وارزیادہ رقم پرخریدناجائز ہے بشرطیکہ قسطوں کی تاریخیں متعین ہوں اور مقررہ تاریخ سےتاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ لازم نہ کیا جائے۔

 

‌وكذا ‌إذا ‌قال: ‌بعتك ‌هذا ‌العبد ‌بألف ‌درهم ‌إلى ‌سنة ‌أو بألف وخمسمائة إلى سنتين؛ لأن الثمن مجهول۔۔۔۔فإذا علم ورضي به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد۔ (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5،ص:158)

وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كانا يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهوجائزلأنهماماافترقا إلابعد تمام شرط صحة العقد۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13، ص: 13)

"البيع مع تأجيل ا لثمن وتقسيطه صحيح يلزم أن تکون المدّة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط"۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز،ج:1، ص:124، المادة:245(


فتویٰ نمبر : 3644/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں