بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی ماموں کی بیٹی سے نکاح کرنا


سوال

ایک بچے نے کسی خاتون کا دودھ بچپن میں پیا تھا، اب وہ  بچہ اس مرضعہ خاتون کے بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہےتو کیا یہ نکاح جائز ہے یا حرمت رضاعت کی وجہ سے حرام ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے نسب کی وجہ سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر دودھ پینے والے لڑکے اور اس لڑکی کے درمیان محرمیت کی کوئی اور وجہ نہ ہو تو رضاعت سے اس رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ جس طرح نسب کے اعتبار سے ماموں کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، اسی طرح رضاعی ماموں کی بیٹی سے بھی نکاح جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ (الأحزاب:50)

عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب»۔ (سنن الترمذي، أبواب الرضاع، باب ماجاء يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، ج:3، رقم الحديث:1146)

قوله: قرابة) ‌كفروعه ‌وهم ‌بناته وبنات أولاده، وإن سفلن، وأصوله وهم أمهاته وأمهات أمهاته وآبائه إن علون وفروع أبويه، وإن نزلن۔۔۔۔فلهذا تحرم العمات والخالات وتحل بنات العمات والأعمام والخالات والأخوال فتح۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:28)


فتویٰ نمبر : 7036/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں