بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

باپ کا بیٹے کو گھر سے نکالنا


سوال

ایک لڑکا جسمانی اور مردانگی دونوں لحاظ سےمعذور ہے، اس کی شادی کو تقریباًآٹھ سال ہوچکے ہیں اور اس کے تین بچےبھی ہیں،اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ یہ بچے اس شوہر کے نہیں بلکہ اس کی رضامندی سے ناجائز تعلقات پرپیدا ہوئےہیں،  اب لڑکے کا والد اس کی بیوی اور بچوں کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتے جبکہ وہ ان کو رکھنا چاہتا ہے، تو کیا باپ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان کو گھر سے نکال دے؟

جواب

نکاحِ صحیح کے بعد جب بیوی کے بطن سے کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کا نسب شوہر سے ہی ثابت ہوتا ہے،البتہ اگرشوہر نسب کا انکار کرے تو اس کا انکاراس وقت معتبرہوگا جب شوہر عدالت میں لعان کے ذریعےنسب کی نفی کرےاور پھرقاضی لعان کی شرائط کے مطابق نسب کی نفی کا فیصلہ کردے، اس صورت میں بچے کا نسب اس سے ثابت نہ ہوگا۔

نیزشریعت مطہرہ کی رو سےباپ  پر لازم نہیں کہ وہ بالغ بیٹےاوراس کی  بیوی اور بچوں کو اپنے گھر میں رکھے، اس لیے اگر وہ کسی وجہ سے انہیں گھر سے نکالنا چاہے تو اسے اختیار حاصل ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب شوہران بچوں کے نسب سے منکر نہیں تو ان بچوں کا نسب اسی  سے ثابت ہوگا،البتہ اگر اس کا والداس عورت کے اقرار گناہ کی وجہ سے  ان کو اپنےذاتی ملکیتی  گھر میں نہیں رکھنا چاہتاتو اس کو یہ اختیارحاصل ہے  کہ بیٹے، بہو کو گھر سے نکال دے۔
 

"كلّ يتصرّف في ملكه المستقل كيفما شاء،أي:أنّه يتصرّف كما يريد بإختياره،أي:لايجوزمنعه من التصرّف من قبل أي أحد،هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(دررالحكام، الباب الثالث، الفصل الأوّل، ج:3، ص:201)

"لا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان."(الفتاوى الهندية، ج:1، ص:563)

"قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط."(الفتاوى الهندية، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب، کتاب الطلاق، ج:1، ص:536)


فتویٰ نمبر : 6019/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں