بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

ماہواری کے ایا م میں طالبات کا قرآن کی تلاوت کرنا


سوال

بنات کے ایک مدرسہ میں طالبات قرآن پڑھنے کے لیے آتی ہیں، لیکن استانی نے ان کو منع کیا ہے کہ وہ بیماری کے ایام میں قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتی، اس لیے مدرسہ میں نہ آیا کریں، تو آیا واقعی وہ ان ایام میں سبق پڑھنے مدرسہ نہ آیا کریں یا اس کی کوئی صورت بن سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے ماہواری کے ایام میں قرآن مجید کو چھونا، اور دیکھ کر یا بغیر دیکھے قرآن کی تلاوت کرنا جائز نہیں، البتہ قرآن کریم کی وہ  آیات جو دعا کے معنی پرمشتمل ہوں انہیں دعا یا وظیفہ، یا ذکر کے طور پر پڑھنا جائز ہے، البتہ تعلیمی ضرورت کی وجہ سے آیت سے کم ایک ایک کلمہ توڑ کر پڑھنے کی فقہائے کرام نے اجازت لکھی ہے۔

 صورت مسؤلہ میں اگر ان ایام میں طالبات کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ دینی مسائل کی تعلیم یا صرف قرآن کا ترجمہ پڑھنے  کا انتظام کیا جائے تومدرسہ میں نہ آنے سے اس کا فائدہ زیادہ ہوگا۔

                 

"و إذا حاضت المعلمة فينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين، ولايكره لها التهجي بالقرآن. كذا في المحيط".(الفتاوى الهندية، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس، ج: 1، ص:38)

" (و قراءة قرآن ) أي و لو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً، كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور ... (ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف،فلايجوز مس الجلد وموضع البياض منه، وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم، كما في البحر، أي والصحيح المنع كما نذكره، ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره"(ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج: 1، ص: 293)


فتویٰ نمبر : 10218/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں