بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زمین قبرستان و مدرسہ کےلیے وقف کرنا


سوال

 میرا بھائی اپنی زمین میں سے کچھ حصہ قبرستان کے لیے وقف  کرنا چاہتاہے، اس طور پر کہ زمین قبرستان کے لیے مختص ہوگی، تاہم اس کے اوپر چھت ڈال کر وہاں پر مدرسہ بنادیا جائے گا۔ سوال یہ ہےکہ کیا ایسا کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ واقف (وقف کرنے والا) اپنی مملوکہ اشیا جس مصرف کے لیے جس طرح وقف کرنا چاہے کرسکتاہے بشرطیکہ وہ معصیت نہ ہو۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے بھائی کا اپنی زمین میں سے کچھ حصہ قبرستان کے لیے اس طور پر وقف کرنا کہ زمین قبرستان کے لیے مختص ہوگی اور اس کے اوپر چھت ڈال کر وہاں پر مدرسہ بنادیا جائے گا، شرعاً جائز ہے۔

 

إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ‌ماله ‌حيث ‌شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:366)


فتویٰ نمبر : 6024/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں