بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ميت کے ایصال ثواب کے لیے افضل صدقہ


سوال

ایک شخص فوت ہوا ، اس کے گھر والے اس کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ کرنا چاہتے ہيں گھر والے گاؤں میں زیر تعمیر مسجد میں پیسے دینا چاہتے ہيں  لیکن اس شخص کابھائی چاہتا ہے کہ مسجد میں پیسہ دینے کے بجائے گاؤں والوں کو کھانا کھلایا جائے، مسجد میں پیسہ دینے  سے اس کا دل مطمئن نہیں ہوتااور اس کو یہ ڈر بھی ہے کہ گاؤں والے ان کو برا بھلا کہیں گے  کیونکہ گاؤں والے میت کے لیے صدقہ میں صرف کھانا کھلاتے ہیں ۔آپ حضرات رہنمائی فرمائیں کہ میت کے لیے کونسا صدقہ  کرنا بہتر ہے تاكہ اس سے بھائی  کا دل بھی مطمئن ہو؟

جواب

واضح رہے کہ میت کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے صدقہ کرنا، خیرات کرنا ،  نوافل پڑھنا ، قرآن مجید کی تلاوت ،درود شریف اورذکرو اذکار   جائز  ہے،البتہ میت کے ایصال ثواب کے لیے مسجد کی تعمیر میں  پیسے لگانا زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہے  جب تک مسجد قائم رہے گی،  میت کو اس کا اجر ملتا رہے گا۔نیز اگر وقت مقرر کیے بغیر یا پہلے سے مقرر شدہ ایام جیسے ساتويں، دسويں اور چالیسويں کے علاوہ دوسرے دنوں میں اخلاص نیت سےمیت کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے  لوگوں کو کھانا کھلایا جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق لوگوں کو کھانا کھلانے کی بجائے اگر پیسے  مسجد کی تعمیر میں لگادیے جائیں  تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہے، نیز وقت مقرر کیے بغیر صرف ایصال ثواب کی نیت سے لوگوں کو کھانا کھلانا بھی جائز ہے۔

 

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌إذا ‌مات ‌الإنسان ‌انقطع ‌عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية، وعلم ينتفع به، وولد صالح يدعو له ": هذا حديث حسن صحيح.(سنن الترمذي، باب في الوقف، رقم الحديث:1376، ج:3، ص:652)

الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة ‌صلاة ‌كان ‌أو ‌صوما أو حجا أو صدقة أو قراءة قرآن أو الأذكار إلى غير ذلك من جميع أنواع البر، ويصل ذلك إلى الميت وينفعه.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، ج:2، ص:83)

ويكره اتخاذ الضيافة ثلاثة ايام وأكلها، لأنها مشروعة للسرور...ويكره اتخاذ الطعام فى اليوم الأيام والثالث وبعد الاسبوع والأعياد.(الفتاوى البزازية، كتاب الصلاة، نوع آخر:ذهب الى المصلي قبل الجنازة ينتظرها، ج:1، ص:54)


فتویٰ نمبر : 10216/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں