بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد كے ليے وقف شده زمين سے رجوع كرنا


سوال

آج سے تقریبا بیس سال پہلے ایک شخص نے اپنی زمین کا آدھا  حصہ مسجد  کے لیے وقف کیا  تھا اور آدھے کی قیمت اس  کو ایک صاحب نے دی تھی  ،لیکن اس زمین پر اب تک مسجد نہیں  بنائی   گئی ہے اس کی بجائے دوسری جگہ بن گئی ہے اور وہ زمین ویسے پڑی ہے ، اب واقف کہہ رہا ہے کہ جس مقصد کے لیے میں وقف کیا تھا اس میں وہ استعمال نہیں ہوئی اس لیے میں اپنی وقف شدہ زمین کو واپس لیتا ہوں ،کیا  اس کے لیے اس وقف شدہ زمین کو واپس لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم از کم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے،چنانچہ مسجد کے لیے وقف  کی گئی زمین میں نماز باجماعت ادا ہوجائے، تو وقف تام متصور ہوگا اور واقف کے لیے اس سے رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر زمین مسجد  کے لیے وقف کی گئی ہو  لیکن ابھی تک اس  میں نماز باجماعت ادا نہ ہوئی ہو  تو شرعاً واقف کے لیےاس  زمین سے رجوع کرنا جائز ہے۔

وإن ‌جعل ‌أرضا ‌له ‌مسجدا ‌لعامة ‌المسلمين وبناها وأذن للناس بالصلاة فيها وأبانها من ملكه فأذن فيه المؤذن وصلى الناس جماعة صلاة واحدة، أو أكثر لم يكن له أن يرجع فيه، وإن مات لم يكن ميراثا... وعند محمد لا يصير مسجدا ما لم يصل الناس فيه بالجماعة.(المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف، ج:12، ص:34)

‌ ‌من ‌بنى ‌مسجدا ‌لم ‌يزل ‌ملكه ‌عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلا؛ لأنه لا يخلص لله تعالى إلا به...وأما ‌الصلاة ‌فلأنه ‌لا ‌بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلي فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا، كما قال محمد رحمه الله تعالى رواية الحسن، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي العشر، ج:2، ص:408)


فتویٰ نمبر : 6016/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں