بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم کا خون مسلمان کو لگانے کا حکم


سوال

کسی غیر مسلم کا خون  مسلمان مریض کو لگانا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

غیر مسلم کا خون مسلمان مریض کو لگانا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ مسلمان کو کسی مسلمان کا ہی خون لگایا جائے۔ فقہا نے بچے کو فاسقہ عورت کا دودھ پلوانا بھی نا پسند لکھا ہے ، اس لیے مسلمان مریض کو غیر مسلم کا خون لگانے سے احترازبہتر ہے، لیکن اگر ضرورت ہو تو  پھر غیر مسلم کا خون لگا سکتے ہیں۔

 

‌‌ ‌‌فصل: كره أبو عبد الله ‌الارتضاع بلبن الفجور والمشركات. وقال عمر بن الخطاب، وعمر بن عبد العزيز، رضى الله عنهما: اللبن يشبه، فلا تسق من يهودية ولا نصرانية ولا زانية. ولا يقبل أهل الذمة المسلمة، ولا يرى شعورهن. ولأن لبن الفاجرة ربما أفضى إلى شبه المرضعة في الفجور، ويجعلها أما لولده، فيتعير بها، ويتضرر طبعا وتعيرا، والارتضاع من المشركة يجعلها أما، لها حرمة الأم مع شركها، وربما مال إليها في محبة دينها. ويكره ‌الارتضاع بلبن الحمقاء، كيلا يشبهها الولد في الحمق، فإنه يقال: إن الرضاع يغير الطباع. والله تعالى أعلم.(المغني، كتاب الرضاع، فصل الارتضاع بلبن الفجور، ج:11، ص:346)


فتویٰ نمبر : 6018/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں