بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچپن میں کیے گئےرشتے سے انکار کرنا


سوال

لڑکے کی چال چلن اور اٹھنا بیٹھناٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے بچپن میں کیے گئے رشتے سے انکار کرکے لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کروانا شرعا کیسا ہے؟ واضح رہے کہ بچپن میں صرف لڑکی کو لڑکے کے نام کیا گیا تھا ، نہ تو نکاح ہوا تھا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ منگنی کی رسم ہوئی تھی۔

جواب

اگر کوئی شخص اپنی نا بالغ بیٹی کسی کے نام کردے یا اس کی صرف منگنی  کسی سےکرادے تو یہ وعدۂ نکاح ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا،البتہ وعدہ کرنے کے بعد اس  کو بلا عذر  توڑنا نہیں چاہیے ،لیکن اگر کوئی شرعی عذر ہو تو وعدہ  توڑنا جائز ہے۔ صورت  مسئولہ میں مذکورہ عذراگرواقعتالاحق ہواہوتواس عذرکی وجہ سےوعدہ  توڑناشرعاجائزہوگا۔

 

 قال الله تعالیٰ:﴿ وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا﴾(سورة بني اسرائيل، آية:34)

وكذا أنا متزوجك أو جئتك خاطبا لعدم جريان المساومة في النكاح أو هل أعطيتنيها إن كان المجلس للنكاح فنكاح وإن كان للوعد فوعد۔۔۔قال في شرح الطحاوي:لو قال هل أعطيتنيها فقال:أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد،وإن كان للعقد فنكاح.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب النكاح،ج:3، ص:11)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں