بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

یتیم پوتوں کے لیے وصیت کرنا


سوال

ایک شخص نے بیٹوں کی موجودگی میں اپنے مرحوم بیٹے کی اولادکے لیےاپنے مال میں سے ایک بیٹے کے حصے کی بقدر وصیت کی۔ تو کیا یہ وصیت ان  میں برابر تقسیم ہو گی یا میراث کے قاعدے کے مطابق؟

جواب

واضح رہے کہ جن لوگوں کو میراث میں حصہ ملتاہے ، ان کے لیے وصیت معتبر نہیں ،لیکن جو لوگ میراث  میں حصہ پانے سے محروم ہوں ، ان کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق مرحوم بیٹے کی اولاد، دیگربیٹوں کی موجودگی  میں میراث سے محروم ہیں،  اس لیے ان کے لیے وصیت  كرنا  جائز ہے اور چونکہ ان کو یہ حصہ بطور وصیت دیاجاتا ہے، بطور میراث نہیں ، لہذا  یہ ان میں برابر تقسیم ہو گا۔

 

(‌ولولد ‌فلان) ‌فهي (‌للذكر والانثى سواء) لان اسم الولد يعم الكل حتى الحمل. قال ابن عابدين: (قوله: يعم الكل) لأنه اسم لجنس المولود ذكرا أو أنثى واحدا أو أكثر اختيار.( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الوصايا، ج:10،ص:391 )


فتویٰ نمبر : 6047/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں