بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

قبضہ دیے بغیر جائیداد کسی کے نام پر انتقال کرنا


سوال

میرے والد صاحب نے  اپنا ذاتی مکان میرے نا م پر انتقال کیا تھا لیکن  کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں اس وقت  تک میرے  پاس ر ہے گا ، لیکن اب والد کی وفات کے بعد  میرےبڑے  بھائی   مکان کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کر  رہے ہیں کیا ان  کے لیے ایسا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 ہر شخص کو اپنے مملوکہ مال وجائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کرنے کا حق حاصل ہے اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی جائیداد  اپنی اولاد  میں کسی کو  دے   تو یہ اس کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا اورہبہ کے تام ہونے کی شرط یہ ہے کہ موہوب لہ موہوبہ چیز کو قبض کر لے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  باپ نے اپنی زندگی میں مکان ایک بیٹے  کے نام پر انتقال کیا تھا  لیکن قبضہ نہیں دیاتھا  تو باپ کی وفات کے بعد  مکان میں تمام ورثا شریک ہوں گے  ۔کیونکہ ہبہ کے بعد عملا قبضہ نہ ہو تو محض کاغذی کاروائی سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی  ۔ تاہم اگر  والد نے ہبہ کرنے کے بعد بیٹے کو  قبضہ بھی دیا تھا تو صرف وہی  بیٹا  مکان کا مالک  شمار ہو گا ۔

 

تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول ،وتتم بالقبض.( شرح المجلة،المادة: ٨٣٧)

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا،حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض.( الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، باب الاول،ج:٤،ص:٣٧٤)

 


فتویٰ نمبر : 6053/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں