بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موذن کا اذان دینے کے بعد باجماعت نماز نہ پڑھنے کا حکم


سوال

ایک شخص اذان دے کر جماعت کے دوران مسجد میں بیٹھا رہتا ہے، امام صاحب سے ناراضگی یا کسی اور وجہ سے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا، کیا اس موذن کی اذان درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اذان لوگوں کو مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کے لیے دعوت ہے، اور جو شخص دوسروں کو دعوت دیتا ہے اور خود جان بوجھ کر اس پر عمل نہیں کرتا، اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت وعید آئی ہے، نیز جو شخص مسجد میں موجود ہو اور اذان ہو جائے تو اس کو اسی مسجد میں نماز کا حکم متوجہ ہو جاتا ہے، اس وجہ سے ایسے شخص کے لیے بغیر عذر کے دوسری مسجد جانا جائز نہیں، لہذا جب دوسری مسجد جانا جائز نہیں تو اس مسجد میں قصداً جماعت چھوڑنا بطریقِ اولی ناجائز ہو گا۔

صورت مسئولہ میں موذن کی اذان تو ہو جائے گی لیکن اذان دینے کے باوجودمسجد میں بیٹھ کر جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا۔

 

عن أسامة بن زيد... سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " يؤتى بالرجل يوم القيامة، فيلقى في النار، فتندلق أقتاب بطنه، فيدور بها كما يدور الحمار بالرحى، فيجتمع إليه أهل النار، فيقولون: يا فلان ما لك؟ ألم تكن تأمر بالمعروف، وتنهى عن المنكر؟ فيقول: بلى، قد كنت آمر بالمعروف ولا آتيه، وأنهى عن المنكر وآتيه "(صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقاق، باب عقوبة من يأمر بالمعروف ولا يفعله، وينهى عن المنكر ويفعله،ج:4،ص:290)

(قوله: وكره تحريمًا للنهي) وهو ما في ابن ماجه: «من أدرك الأذان في المسجد ثم خرج لم يخرج لحاجة وهو لايريد الرجوع فهو منافق»، وأخرج الجماعة إلا البخاري عن أبي الشعثاء قال: " كنا مع أبي هريرة في المسجد، فخرج رجل حين أذن المؤذن للعصر، قال أبو هريرة: أما هذا فقد عصى أبا القاسم"، و الموقوف في مثله كالمرفوع، بحر. (قوله: من مسجد أذن فيه) أطلقه، فشمل ما إذا أذن و هو فيه أو دخل بعد الأذان، كما في البحر والنهر.( ردالمحتار علی الدرالمختار،مطلب في كراهة الخروج من المسجد بعد الأذان،ج:2،ص:54)

وكره خروجه من مسجد أذن فيه" أو في غيره "حتى يصلي" لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا يخرج من المسجد بعد النداء إلا منافق أو رجل يخرج لحاجة يريد الركوع" "إلا إذا كان مقيم جماعة أخرى۔(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلوة، باب إدراك الفريضة،ص:372)


فتویٰ نمبر : 10227/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں