بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

اگر تو فلاں کے منگنی میں گئی تو تجھے تین طلاق،کہنے کا حکم


سوال

ایک شخص نےبیوی سے کہا "اگر تو فلاں کے منگنی میں گئی تو تجھے تین طلاق"اب جس کی منگنی ہونی تھی  اب وہاں اس کی منگنی کے بجائے اس کا نکاح طے پاگیا ہے تو کیا بیوی وہاں جاسکتی ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے شرط واقع ہونے پر طلاق واقع ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی  شخص اپنی بیوی سے یہ کہا ہو "اگر تو فلاں کے منگنی میں گئی تو تجھے تین طلاق" اور جہاں منگنی تھی وہاں اس کا نکاح  منعقد ہو جائے تو چونکہ ہمارے عرف میں اکثر منگنی ہی میں نکاح   بھی ہوتا ہے  اس لیے اگر وہ تقریب منگنی ہی  کے نام سے  منعقد ہو اور اس میں نکاح بھی ہورہا ہو تو ایسی صورت میں  بیوی کے  شرکت کرنے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی البتہ اگر وہ تقریب منگنی کی نہ ہو بلکہ صرف تقریب نکاح ہو تو ایسی صورت میں بیوی  کے شرکت کرنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)


فتویٰ نمبر : 7038/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں