بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح نامہ پُر کرنے سے نکاح کا حکم


سوال

ایک لڑکا اور لڑکی نےباہر ملک جانے کے لیے دستاویزی نکاح کیااس طرح کہ اگر باہر ملک جانے کاکام ہو گیا توپھر وہاں باقاعدہ نکاح کر یں گے اوردونوں نے نکاح نامہ پر کر لیا جس میں گواہوں کے نام بھی لکھ ڈالےاور گواہوں سےاس کی اجازت بھی لی ہےلیکن اب دونوں کا باہر ملک جانے کا کام کینسل  ہوا، تو کیا نکاح نامہ پُر کرنے سے ان دونوں کا آپس میں نکاح صحیح قائم ہوا یا نہیں؟

جواب

نکاح کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ عاقدین (میاں بیوی) دو مسلمان، عاقل و بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کرلیں،صرف نکاح نامہ پُر کرنے سےنکاح منعقد نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ میں لڑکا اور لڑکی کا باہر ملک جانے کے لیے ایجاب و قبول کے بغیر صرف نکاح نامہ پُر کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوا۔

 

وأما ركنه فالإيجاب والقبول كذا في الكافي...وأما شروطه... ومنها الشهادة قال عامة العلماء إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع وشرط في الشاهد أربعة أمور الحرية والعقل والبلوغ والإسلام. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الأول، ج:1، ص: 322)


فتویٰ نمبر : 7035/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں