بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہر میں لکھی ہوئی زمین میں تقسیم میراث


سوال

ایک شخص نے اپنے بیٹے کی طرف سے نکاح کے دوران اس کی بیوی کے مہرمیں زمین لکھ لی ہے، جس کے کاغذات بھی  بہو کے قبضہ میں دیئے، اب سوال یہ ہے کہ باپ فوت ہو گیا ہےتو زمین اس عورت کی ملکیت شمار ہوگی یا یہ زمین اس کے ورثا میں تقسیم ہوگی؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے عقد نکاح کے دوران اگر شوہر کا والد مہر کی ادائیگی کا ضامن بن جائے تو شرعا یہ جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سےاس کی بیوی کے مہر میں زمین لکھ لے اور اس  کے کاغذات بھی بہو کے قبضہ میں دے دے تو یہ زمین اس عورت کی ملکیت ہوگی لہذا اس کو ورثا کے مابین تقسیم نہیں کیا جائے گا۔

 

قوله:(وصح ضمان الولي مهرها)أى سواء كان ولي الزوج أو الزوجة،صغيرين كانا أو كبيرين۔ (ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في ضمان الولي المهر،ج:4، ص:286)

إذا أعطى الأب أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة لأنه بيع فلا يبطل بالموت ۔(البحر الرائق، كتاب  النكاح، باب المهر تحت قوله(وصح ضمان  الولي المهر )،ج:3، ص:307)


فتویٰ نمبر : 3648/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں