بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

کہ دا ماشومہ دے ماتہ رانہ کڑہ نو لور درتہ طلاق کوم تا کرہ دے ناستہ وی، الفاظ كهنے سے طلاق كا حكم


سوال

میری بیٹی  اپنے شوہر  اور اپنی بچی  ( میری نواسی ) سمیت میرے گھر آئی ہوئی تھی ۔ میرا داماد کسی بات پر ناراض ہوکر جانے لگا  اور ساتھ میں اپنی بیوی ( میری بیٹی ) کو بھی جانے لگا  تو میں نے اپنی بیٹی  کو اس کے ساتھ جانے نہیں دیا۔ میرا داماد اپنی بچی اٹھا کرمیرے گھر  سے جانے لگا ۔ میں اس کے پیچھے گیا  اور اس کی بچی  یعنی میری نواسی میں نے اس سے چین لی۔ میرا داماد  بار بار اصرار کرتا رہا کہ یہ بچی  یعنی میری نواسی  میرے ساتھ جانے دیں ، لیکن میں نے انکار کیا  بالآخر  میرے  داماد  نے بہت سارے  لوگوں  کے سامنے مجھے کہا پشتو الفاظ میں کہ "  کہ دا ماشومہ دے ماتہ رانہ کڑہ نو لور  درتہ طلاق کوم  تا کرہ دے ناستہ وی" ( اگر بچی مجھے نہیں دی تو تمھاری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں  وہ تمھارے پاس بیٹھی رہے)۔ یہ الفاظ اس نے صرف ایک ہی مرتبہ منہ سے نکالے ہیں  اور وہاں پر موجود کئی رشتہ دار ں نے یہ بات سن لی ۔ اس کے بعد میرا داماداپنے گھر چلا گیا  اور وہ بچی میں نے  اس کو نہیں دی  وہ بچی اور میری بیٹی ابھی تک میرے  پاس میرے گھر میں ہیں ۔ کیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی ہے  یا نہیں ؟کیونکہ میں نے اس کی بچی تاحال اس کو واپس نہیں  کی ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص  طلاق کےلیے ماضی یا حال کے علاوہ  ایسے الفاظ کا استعمال کرے جس میں مستقبل میں طلاق  دینے کی دھمکی یا مستقبل میں طلاق دینے کے عزم  کا اظہار ہو تو   ایسے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق  شوہر کا اپنے سسر کو یہ الفاظ کہنا  کہ "  کہ  دا ماشومہ دے ماتہ رانہ کڑہ نو لور  درتہ طلاق کوم  تا کرہ دے ناستہ وی" ( اگر بچی مجھے نہیں دی تو تمھاری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں  وہ تمھارے پاس بیٹھی رہے) ان  الفاظ  میں صرف طلاق کی دھمکی ہے ، لہذا اس سے  طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 

ولو ‌قال ‌أردت ‌طلاقك ‌لا ‌يقع. ( البحر الرائق، كتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق، ج: 3، ص: 269)

لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا ‌إلا ‌إذا ‌غلب ‌استعماله ‌للحال فيكون طلاقا. ( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج: 1، ص: 384)


فتویٰ نمبر : 7032/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں