بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

والدہ کے لیے تین بھائیوں کا مشترکہ کمرہ بنانے کے بعد میراث کا حکم


سوال

 تین بھائیوں نے مل کر ماں کے لئے کمرہ بنایا تقریباً تین لاکھ کا خرچہ آیا ۔جبکہ زمین ایک بیٹے کی ملکیت میں تھی ماں کے فوت ہوجانے کے بعد کمرے کی آبادی میراث میں تقسیم  ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر انسان کو زندگی میں بحالت ہوش وبقائے  حواس اپنی مملوکہ جائیداد میں مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہے، اس لیے جب کوئی شخص اپنی مملوکہ چیز کسی کو ہبہ کرے  اور قبضہ دےدےتو یہ شرعی اعتبار سے معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اور موہوب لہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ چنانچہ اس  کے فوت ہونے کے بعد اس  چیز میں شرعی حصص کے مطابق ہر وارث کو حصہ دیا جائے گا۔ تاہم، اگر ہبہ نہ کیا گیا ہو بلکہ محض استعمال کے لیے کوئی چیز دی گئی ہو تو ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے میراث کے احکام  جاری  نہیں  ہوتے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جس بیٹے کی زمین ہے اگر اس نے اپنی زمین والدہ کو ہبہ کی تھی اور پھر تین بیٹوں نے ماں ہی کے لیے تملیکا کمرہ بنادیا تھا تو ایسی صورت میں یہ کمرہ میراث ہوگا چنانچہ سب ورثاء میں بقدرِ حصص تقسیم ہوگا اور اگر زمین و عمارت دونوں یا ان میں سے ایک میں ہبہ کی نیت نہیں  تھی  صرف ماں کے عارضی استعمال کے لیے بنایا تھا تو پھر میراث کے احکام لاگو نہ ہوں گے ۔

 

وتتم الهبة بالقبض الكامل... لأن القبض شرط تمامها .(الدرالمختار على صدر رد المحتار،كتاب الهبة، ج:5،ص:592)

كما أن أعيان المتوفى المتروكة عنه مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم.(شرح المجلة لسليم رستم باز، الفصل الثالث، رقم المادة:1092،ص:610)

التركة في الاصطلاح:ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الفرائض، ج:10،ص:493)


فتویٰ نمبر : 3664/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں