بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گھر والوں کو بے خبر رکھ کر نکاح کرنا


سوال

میری منگنی ہو چکی ہےاور وہ لڑکی میری ہم جماعت ہے، ہماری ایک دوسرے سے بات چیت ہوتی رہتی ہے،ملنا بھی ہوتا ہے یونیورسٹی میں ۔ہم نکاح کرنا چاہتے تھے مگر گھر والے نہیں مان رہے، اب ہم گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنا چاہتے ہیں ، تاکہ گناہ کا خطرہ نہ ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت وغیرہ کرسکیں۔تو کیا ہم اگر شرعی اعتبار سےدو گواہوں کی موجودگی میں کسی سے نکاح پڑھوائیں ، تو ہمارا نکاح ہو جائے گا؟ اور جب دوبارہ گھر والے ہمارا نکاح پڑھائیں، تو اس نکاح کی کیا حیثیت ہوگی؟ اوراگرنکاح ہو جائے تو ہمیں ازدواجی تعلق قائم کرنے پر شریعت کی طرف سے کوئی پابندی تو نہیں ہوگی؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح کا دارومدار بالغ لڑکےاور لڑکی کی رضامندی پر ہے،نکاح کی صورت میں دونوں پر کسی قسم کا جبر نہیں کیا جاسکتا، تاہم چوری چھپکے نکاح کرنے کی شریعت حوصلہ افزائی نہیں کرتی، والدین اور خاندان کو بے خبر رکھ کر لڑکا لڑکی کاکسی سے نکاح پڑھوانا شرعاً و اخلاقا مذموم سمجھا جاتاہے،کیوں کہ اس سے ایسے مسائل و مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے،اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے علی الاعلان نکا ح کرنے، مسجد میں کرنے ،اور لوگوں کو خبر دینے کا حکم دیا  ہے، تاکہ  شکوک و شبہات باقی نہ رہیں، اور نکاح میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔    

صورت مسئولہ میں سائل کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھر والوں کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے سے احتراز کرے،اور اگر ہو سکے تو ان کو کسی طریقے سے مطمئن کرکے نکاح پڑھائے، تاکہ بعدمیں مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

 

عن محمد بن حاطبؓ، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فصل بين الحلال والحرام، الدف والصوت في النكاح»(جامع الترمذي، کتاب النکاح، باب ما جاء في إعلان النکاح،ج:1،ص:334)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي المَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ»(جامع الترمذي، باب ما جاء في إعلان النکاح،ج:1،ص:334)

ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخرلغيره مستقبلا كان كالأمرأو حالا كالمضارع۔(الفتاوی الھندیة،کتاب النکاح،ج:1،ص:335)


فتویٰ نمبر : 7061/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں