بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق دی کہ زما کور لہ رالئ، كے الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

ایک لڑکے نے اپنی بہن کوگھر آنے سے منع کیا ہے اور طلاق کی قسم لی ہے الفاظ یہ ہیں "طلاق دی کہ زما کور لہ رالئ"(طلاق ہےاگر تم میرے گھر آئی)جبکہ لڑکی کے ماں باپ زندہ ہیں ۔اور گھر کی ملکیت باپ کی ہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا موجودہ صورت میں طلاق واقع ہوگی؟کیونکہ اب والدین کی خوائش ہے کی ان کی بیٹی  گھر آئے ۔

جواب

طلاق کو کسی شرط کےساتھ معلق کیا  جائے تو جب تک شرط واقع نہیں ہوتی طلاق واقع نہ ہوگی، لہذا اگر  کوئی قسم کھائے  کہ فلاں اگر میرے گھر  آئے تو طلاق ہو گی ،تو عرف میں اس سے وہ گھر مراد ہوتا ہے  جس میں وہ شخص   رہتا ہو ،چاہے اس  کی ملکیت ہو یا نہ ہو۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اس لڑکے  نے  جو  الفاظ کہے ہیں کہ " طلاق دی کہ زما کور لہ رالئ" تو اس  سے   وہ گھر مراد ہوگا جس میں وہ رہتا ہے،لہذا  اس  کی بہن اگر اس گھر میں چلی جائے تو  اس کی  بیوی کو ایک طلاق واقع ہوجائے گی،چاہے وہ اس لڑکے کی ملکیت نہ ہو،باپ کی ملکیت ہو۔

 

(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز.مطلب لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى(قوله: ولو تبعا) حتى لو حلف لا يدخل دار أمه أو بنته وهي تسكن مع زوجها حنث بالدخول نهر عن الخانية.قلت: وهو خلاف ما سيذكره آخر الأيمان عن الواقعات، لكن ذكر في التتارخانية: أن فيه اختلاف الرواية ويظهر لي أرجحية ما هنا حيث كان المعتبر نسبة السكنى عرفا، ولا يخفى أن بيت المرأة في العرف ما تسكنه تبعا لزوجها وانظر ما سنذكره آخر الأيمان (قوله: أو بإعارة) أي لا فرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهر نهر أي لأنها ليست مسكنا له (قوله: باعتبار عموم المجاز إلخ) مرتبط بقوله يراد، يعني أن الأصل في دار زيد أن يراد بها نسبة الملك، وقد أريد بها ما يشمل العارية ونحوها وفيه جمع بين الحقيقة والمجاز وهو لا يجوز عندنا. فأجاب بأنه من عموم المجاز بأن يراد به معنى عام يكون المعنى الحقيقي فردا من أفراده وهو نسبة السكنى: أي ما يسكنها زيد بملك أو عارية)."رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الايمان، باب اليمين فی الدخولو الخروج،ج:3،ص:760)


فتویٰ نمبر : 7052/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں