بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کثیر المنزلہ مسجد میں جماعت کےلئے امام کے کھڑےہونے کی جگہ


سوال

مسجد کے دوسرے فلور میں امام کا کھڑا ہونا کیسا ہے؟ جبکہ نیچے والا فلور بھی مسجد ہے، اور نیچے والے فلور کے مصلیان دوسرے فلور کی جماعت کی اقتدا کرتے ہیں۔ اور پھر اسی مسجد میں جمعہ کی نماز میں امام نیچے والے فلور میں کھڑا ہوتاہے ۔اسی طرح امام جب دوسرے فلور میں امامتی کرتا ہے تب کچھ مصلی نیچے والے فلور میں اور کچھ تیسرے فلور میں کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ دوسرے فلور میں بھی بہت جگہ خالی رہتی ہے۔تو ایسا کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد ميں امام جماعت کے لئےجہاں کھڑا ہوجائےوہاں سے اس کے پیچھے صف بنائی جائےگی ،اگر امام اوپر منزل میں کھڑا ہواور اس کے پیچھے صفیں بنائی جائیں،اور اس  منزل کی تمام صفیں  بھر جائیں  تو پھر   نیچے منزل  میں  بھی امام  کی اقتداء بلا کراہت  جائز ہے،اور اگر امام نیچے والی منزل میں ہو،تو نیچے والی  منزل کی تمام صفیں بھر جانے کے بعد    اوپرمنزل میں اقتدا بلا کراہت  جائز  ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب   امام مسجد دوسرے فلور میں کھڑا ہو اور نیچے والے فلور کے مصلیان دوسرے فلور کی جماعت کی اقتدا کریں  تو اگر دوسرے فلور کی تمام صفیں بھری ہوئی ہو ں تو نیچے فلور میں نماز بلا کراہت  جائز ہے۔نیز جمعہ کے دن  جب امام نیچے فلور میں کھڑا ہو تو اس فلور کی تمام صفیں بھر جانے کی صورت میں دوسرے فلور میں امام کی اقتدا بلا کراہت جائز ہے ،لیکن امام جس فلور میں کھڑا ہے اگراس کی  صفیں مکمل نہ ہوں اورکوئی اس سے الگ  فلور میں امام کی اقتدا کرے تو اس کی نماز جائز ہو گی ،البتہ یہ مکروہ تحریمی  ہے۔

 

عن أنسِ بن مالِكٍ ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ‌أتموا ‌الصف ‌المقدم، ثم الذي يليه، فما كان من نقص فليكن في الصف المؤخر "۔ (سنن أبي داؤد، كتاب الصلوة، باب تسوية الصفوف، ج:1، ص:107)

ولو ‌قام ‌على ‌سطح ‌المسجد واقتدى بإمام في المسجد إن كان للسطح باب في المسجد ولا يشتبه عليه حال الإمام يصح الاقتداء وإن اشتبه عليه حال الإمام لا يصح. كذا في فتاوى قاضي خان وإن لم يكن له باب في المسجد لكن لا يشتبه عليه حال الإمام صح الاقتداء أيضا۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة،الباب الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم، ج:1، ص:88)

ولو ‌صلى ‌على ‌رفوف ‌المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة۔ قال ابن عابدين تحت قوله (كقيامه في صف إلخ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله - صلى الله عليه وسلم - " ومن قطعه قطعه الله " ۔ (الدر المختارعلى صدر ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج: 1، ص:570)


فتویٰ نمبر : 10229/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں