بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

امانت پر ہونے والے منافع کا حکم


سوال

ایک شخص کے پاس اس کے یتیم پوتے کی رقم بطور امانت پڑی ہو اور وہ اس سے پلاٹ اپنے نام خرید لے،پھر نو دس سال بعد دادا اس پلاٹ کو نفع سے فروخت کرے تو کیا وہ پوتے کو وہی اصل رقم دے گا یا منافع بھی پوتے کا حق ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ دادا یتیم پوتے کا ولی ہے اور ولی کے پاس مال امانت ہوتا ہے،امانت پر ہونے والے منافع کا مستحق وہی ہوگا جس کی وہ رقم ہے اس ليے  اصل رقم کے ساتھ ساتھ منافع بھی مالک کو لوٹايا جائے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق دادا کے پاس یتیم پوتے کا مال بطور امانت تھا اوراس سے اپنے نام پلاٹ خریدنا اس کے لیے جائز نہیں تها، تاہم اگرپھر بھی اس نے لیا ہے اور اب منافع کے ساتھ بیچنا چاہتا ہے تو اس پر ہونے والا منافع بھی پوتے کا ہوگا لہذا اصل رقم کے ساتھ منافع بھی پوتے کو دیا جائے گا۔

 

قال الله تعالى: فَليُؤَدِّ ‌ٱلَّذِي ٱؤتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَليَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُ.(البقرة:283)

الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه، فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوصايا، باب الوصي، ج:6، ص:714)

الحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(رد المحتار على الدر المختار، باب البيع الفاسد، مطلب رد المشتري فاسدا الي بائعه فلم يقبله، ج:5، ص:99)


فتویٰ نمبر : 6013/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں