بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

باپ کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹےکی اولادکاداداکی میراث میں حصہ


سوال

اگر ایک شخص کے تین بیٹےاور تین بیٹیاں ہوں،اور ایک بیٹا باپ کی زندگی میں فوت ہوجائے،اس کے بعد باپ کا انتقال ہوجائے، تو کیا باپ کے ترکہ میں بقیہ دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے ساتھ اس مرحوم بیٹے کی اولاد کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

شریعتِ مطہرہ کی رو سے جب میت کی اولاد میں بیٹے موجود ہوں تو اس کی میراث میں پوتوں کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔اس لیےاگر بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے تو دیگر بیٹوں کی موجودگی میں باپ کی زندگی میں فوت ہونے والےبیٹے کی اولاد(پوتوں) کوداداکی وراثت میں حصہ نہیں ملتا، البتہ اگر دیگر ورثا عاقل و بالغ ہوں اور وہ برضا و خوشی مرحوم بیٹے کی اولاد کو کچھ حصہ دیں تو ایسا کرنا جائز اور باعثِ ثواب ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق چونکہ مرحوم کی اولاد میں بیٹے موجودہیں اس لیے ان کی موجودگی میں پوتوں کا شرعا ً میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔

 

"إذا ترك ابنا وابن ابن، فليس لابن الابن شي."(السنن الکبری للبیھقی،  ج:9، ص:302)

"وشروطه: ثلاثة... ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل."(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10/ص:491)


فتویٰ نمبر : 3649/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں