بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

شوہر کے مفقود ہو جانے کے بعد دوبارہ آجانے سے عورت کے دوسرے نکاح کا حکم


سوال

میں  نے ایک مرد سے شادی کی ،مجھے پتہ تھا کہ اس شخص کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں  ہے ، اس سے میرے دو بچے بھی ہوئے ،شادی کے دو سال بعد وہ شخص کہیں چلا گیا ،اور زندگی اور موت کا پتہ ہی نہ چلا ،10 سال گزارنے کے بعد  میں نے عدالت سے رجوع کئے بغیر اس کے بھائی سے شادی کرلی ،اور اس سے بھی بچے ہوئے ،اس  شادی کے پانچ سال بعد یعنی  15 سال بعد وہ پہلا شوہر واپس آگیا ،تو کیا اب میرا پہلا نکاح برقرار ہے ،یا دوسرا؟

جواب

اگر کسی  عورت کا شوہر ایسا گم ہو جائے کہ بالکل زندگی اور موت کا پتہ ہی نہ چلے اور اِس سے مزید انتظار اور صبر نہ ہوسکے،  تو ایسی مجبوری میں اِمام مالکؒ کے مذہب کے مطابق فتوی دیا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ عورت مسلمان حاکم کی عدالت میں دعوی دائر کرے اور گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ فلاں شخص اِس کا شوہر ہے، پھر گواہوں ہی کے ذریعے اِس کا لاپتہ ہونا بھی ثابت کرے ، اِس تمام کارروائی کے بعد قاضی ہر ممکن صورت سے اِس شخص کی تفتیش و تلاش کروائے، جب قاضی اِس شخص کے ملنے سے بالکل ناامید ہو جائے تو عورت کو چار سال انتظار کرنے کا حکم دے، اگر اِن چار سالوں میں شوہر آجائے تو بہت خوب، ورنہ مدت پوری ہونے پر عورت دوبارہ عدالت میں درخواست پیش کرے جس پر قاضی شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے، اِس کے بعد عورت چار ماہ دس دِن عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔لیکن اگر دوسری شادی کے بعد اس کا پہلا شوہر  واپس آیا   ،تو    دوسرے شوہر سے  نکاح ختم  شمار ہوگا ،اوریہ عورت  پہلے شوہر کی بیوی شمار ہوگی ،چنانچہ دوسرے شوہر سے عدت  گزارنے کے   بعد پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی۔

چونکہ اس پوری کار روائی کے لیے عدالت کا فیصلہ  ضروری ہے اس لئے   صورت مسؤلہ  میں اگر عورت نے عدالت سے رجوع   نہیں  کیا تھا ، اور دوسرے شخص سے نکاح کیا تووہ  نکاح  معتبر نہیں ،لہذا اس پر توبہ  و استغفار  کرے  اور بدستور پہلے شوہر کی بیوی ہے ۔اور استبراء رحم کے بعد اس پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی۔

 

قال مالك والأوزاعي: إلى أربع سنين، فينكح عرسه بعدها كما في النظم، فلو أفتى به موضع الضرورة، ينبغي أن لا بأس به على ما أظن۔ (القهستاني، شمس الدين محمد، جامع الرموز، كتاب المفقود، ج:3، ص: 390)

ومذهب الحنفية في الباب، وإن كان قويا رواية و دراية، ولكن المتأخرين منا قد أجازوا الإفتاء بمذهب مالك عند الضرورة نظراّ إلى فساد الزمان۔ (إعلاء السنن، كتاب المفقود، باب إمرأته حتى ياتيها البيان، ج:13، ص:67)

(قوله: خلافا لمالك) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين، وهو مذهب الشافعي القديم وأما الميراث فمذهبهما كمذهبنا في التقدير بتسعين سنة، أو الرجوع إلى رأي الحاكم. وعند أحمد إن كان يغلب على حاله الهلاك كمن فقد بين الصفين أو في مركب قد انكسر أو خرج لحاجة قريبة فلم يرجع ولم يعلم خبره فهذا بعد أربع سنين يقسم ماله وتعتد زوجته، بخلاف ما إذا لم يغلب عليه الهلاك كالمسافر لتجارة أو لسياحة فإنه يفوض للحاكم في رواية عنه، وفي أخرى يقدر بتسعين من مولده كما في شرح ابن الشحنة، لكنه اعترض على الناظم بأنه لا حاجة للحنفي إلى ذلك أي؛ لأن ذلك خلاف مذهبنا فحذفه أولى. وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ (رد المحتار علی الدرالمختار، ج 4 ،ص 295)

قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس.)المبسوط للسرخسي ،ج:11 ، ص: 64):"

(وكذا لا عدة لو تزوج امرأة الغير ) ووطئها ( عالما بذلك ) وفي نسخ المتن ( ودخل بها ) ولا بد منه وبه يفتى ولهذا يحد مع العلم بالحرمة لأنه زنا والمزني بها لا تحرم على زوجها  وفي شرح الوهبانية لو زنت المرأة لا يقربها زوجها حتى تحيض لاحتمال علوقها من الزنا فلا يسقي ماؤه زرع غيره فليحفظ لغرابته."(‌‌رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الطلاق، باب العدة، مطلب في وطء المعتدة بشبهة، ج: 3، ص: 527)


فتویٰ نمبر : 7039/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں