بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کمپنی کی اشیاء کی تشہیر پر کمیشن لینا


سوال

آج کل آن لائن کاروبار کا سلسلہ چل رہا ہے اس میں سے ایک  Infuencer Marketing ہے کہ  انفلوئنسر  کسی کمپنی کی کسی چیز  کی تشہیر کرتا ہے جب وہ چیز سیل(بک)  ہو جاتی ہے تو کمپنی  انفلوئنسر  کو 2 فیصد اس کی قیمت کا ادا کرتی ہے۔  انفلوئنسر  اس میں کوئی رقم نہیں لگاتا     تاہم اس تشہیر کے عوض کمپنی اسے فروخت شدہ چیز کا دو فیصد ادا کرتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ انفلوئنسر کے لیے اس رقم کا لینا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ مصنوعات کی تشہیر کرنے میں جھوٹ ،دھوکہ اور غلط بیانی سے کام لینا یا جاندار کی تصویر کے ذریعے تشہیرکرنا یا تشہیر ٍ کرنے میں میوزک وغیرہ کا استعمال کرنا شرعا جائز نہیں ،تاہم اگر مذکورہ چیزوں سے اجتناب کرتے ہوئے کسی پراڈکٹ کی تشہیر کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں،  جہاں تک کمیشن لینے کا تعلق ہے تو انفلوئنسر مارکیٹنگ  میں انفلوئنسر کی کمیشن لینے کی مختلف صورتیں ہیں:

1۔ اگرانفلوئنسرصرف پراڈکٹ کی تشہیر کرتا ہو اورتشہیر پر معاوضہ  لیتا ہو تو ایسی صورت میں انفلوئنسر کی حیثیت اجیرکی ہے لہذاایسی صورت میں معاوضہ کا اس طرح معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے کہ بعد میں کوئی نزاع کا اندیشہ نہ ہو،اور طے شدہ طریقے کے مطابق تشہیر کرنے پر وہ اجرت کا مستحق ہوگا چاہے کوئی خریداری کرے یا نہ کرے۔

2۔اگر انفلوئنسر نے کمپنی  کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوكہ وہ تشہیر کرے گا اور اس کے  واسطے سےجو کسٹمر خریداری کرےتواسے اس خریداری میں اتنا فیصد بطور کمیشن  ملےگا  تو اس صورت میں انفلوئنسر کی حیثیت دلال کی ہوگی اور اس کے لیے خریداری پرمقررہ کمیشن لینا جائز ہے۔

 

عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم " ‌نهى ‌عن ‌استئجار ‌الأجير، يعني حتى يبين له أجره ".(السنن الكبرى للبيهقي، باب لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، ج:9،ص:39)

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الإجارة،ج:9،ص:7)

قال في التتارخانية: ‌وفي ‌الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه... وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه.(رد المحتار على الدرالمختار،باب الجارة الفاسدة،كتاب الإجارة،مطلب في اجرة الدلال، ج:6، ص:63)

الإجارة:عقد يرد على المنافع بعوض.(الهداية، كتاب الإجارات،ج:3،ص:295)


فتویٰ نمبر : 3680/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں