بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

پندرہ دن سے کم طہر کی صورت میں معتادہ عورت کےلیے اپنی عادت کی طرف رجوع کرنا


سوال

ایک عورت کی شادی سے پہلے ماہواری کی یہ عادت تھی کہ مہینے میں 22 دن طہر ہوتاتھا اور آٹھ دن حیض ہوتی اور شادی کے بعد بھی یہی عادت تھی، لیکن اب عادت کچھ اس طرح بدل چکی ہےکہ اس عورت کو تین، چار دن پاکی کے ہوتے ہیں اور پھر تین چار دن ناپاکی کے، پھر یہ عورت چار،  پانچ دن کے لیے پاک ہو جاتی  ہے اور پھر دوبارہ دو، تین دن کے لیے ناپاک ہو جاتی ہے اس کی پاکی اور ناپاکی کے دن متعین نہیں ہیں، لیکن اس عورت کو پاکی دس دن سے کم ہی ہوتی ہے،تو اس عورت کی نمازوں کا کیا حکم ہو گا،کیا وہ اپنی پرانی عادت کی طرف لوٹائی جائے گی؟

جواب

اگر معتادہ عورت کی عادت میں کچھ  اس طرح خلل آجائے کہ پورے مہینے میں کچھ دن پاکی اور کچھ دن ناپاکی کے ہوں، لیکن درمیان میں  پاکی کے دن پندرہ  تک نہ پہنچتے ہوں تو اس صورت میں یہ عورت اپنی  پرانی  عادت کی طرف رجوع کرے گی۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر معتادہ عورت کی عادت میں خلل آیا ہو اور اب اس کو  تین، چار دن  خون آتا ہو، پھر چار، پانچ دن کےلیے  پاک ہوجاتی ہو اور پھر دو، تین دن  کےلیے خون آتا ہو اور اس کی  پاکی کے دن پندرہ سے کم رہتے ہوں تو یہ عورت  اپنی پرانی عادت کے مطابق مہینے میں بائیس دن پاکی کے گزارے گی اور آٹھ دن  حیض کے گزارے  گی۔

 

 الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لم يفصل وكثير من المتأخرين أفتوا بهذه الرواية؛ لأنها أسهل على المفتي والمستفتي ... فإن لم يجاوز العشرة فالطهر والدم كلاهما حيض سواء كانت مبتدأة أو معتادة وإن جاوز العشرة ففي المبتدأة حيضها عشرة أيام وفي المعتادة معروفتها في الحيض حيض والطهر طهر. هكذا في السراج الوهاج.( الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الأول في الحيض، ج: 1، ص: 37)


فتویٰ نمبر : 10212/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں