بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مؤکل اور وکیل کا منافع میں شریک ہونا


سوال

زید ایک منڈی میں کمیشن کا کام کرتا ہے،اس نے عمرو کو پیسے دیے ہیں کہ وہ اس  کے لیے جلال آباد میں سبزی خریدے اوراس کے پاس پاکستان بھیجےتاکہ وہ  اس کو آگے فروخت کرے اس شرط پر کہ نفع میں دونوں شریک ہوں گے، لیکن سبزی فروخت کرنے کے بعد زیدپہلے اس نفع سےسبزی منڈی کے قانون کے مطابق اپنا کمیشن لیتا ہے اور پھر بقیہ رقم معاہدے کے مطابق تقسیم کرتا ہے، تو آیا ان کے مابین یہ عقد ،اور زید کے لیے کمیشن لینا  ٹھیک ہےیا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص دوسرے کو یہ کہتا ہے کہ آپ میرے لیے فلاں چیز خریدیں تو یہ توکیل (وکیل بنانے) کا معاملہ ہے، یعنی پہلے شخص نے دوسرے کو اپنا وکیل بنایا ہے،اور وکالت کامعاملہ جب اجرت کے بدلےہو تواس میں یا تو پہلے سے اجرت متعین کرنا ضروری ہوتاہےاوریا اگر اجرت پہلے سے متعین نہ ہوبلکہ دوسرا آدمی (وکیل) اجرت کے بدلے ہی کام کرنے میں مشہور ہو، یعنی اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ وہ اجرت کے بدلے کام کر تا ہوتو اس صورت میں وہ اجرت مثل کا حقدار ہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق زید نے عمرو کو جوپیسے دیے ہیں کہ وہ اس  کے لیے جلال آباد میں سبزی خریدے اوراس کے پاس پاکستان بھیجے تاکہ وہ  اس کو آگے فروخت کرے،یہ وکیل بنانے کا معاملہ ہے،چنانچہ عمرو زید کا وکیل ہے، اور وکیل کے لیے اجرت مقرر کی جاسکتی ہے،لیکن اس کو منافع میں شریک کرنا درست نہیں، اس لیے کل منافع زید کا ہوگا، البتہ عمرو کو مارکیٹ کے مطابق اجرت دے گا۔

                 

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة."(شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الحادى العشر في الوكالة،الباب الثالث في أحكام الوكالة:1467،ص:789)

"وفي الواقعات للناطفي إذا قال لرجل بع هذا المتاع ولك درهم أو قال اشتر لي هذا المتاع ولك درهم ففعل فله أجر مثله لا يجاوز به الدرهم ‌وفي ‌الدلال ‌والسمسار ‌يجب ‌أجر ‌المثل، وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم. كذا في الذخيرة."(الفتاوی الھندیہ، كتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج:4، ص:450)


فتویٰ نمبر : 3654/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں