بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/10/2026

دارالافتاء

 

گائے کوصدقہ کرنے کا حکم


سوال

ایک آدمی کے پاس  گائے ہے اور اس نے پہلے سے نیت کی ہے کہ میں اس گائے کو اللہ کے راستے میں صدقہ کروں گا اور ابھی اس کے بیٹے کی شادی ہورہی ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ اس صدقہ کی ہوئی گائے کو شادی کے موقع پر ذبح کر کے لوگوں کو کھلانا جائز ہے یا اس کو صرف فقراء پر خرچ کرنا ضروری ہے؟

جواب

نفلی صدقات کسی بھی خیر کے کام میں صرف کیے جاسکتے ہیں ، اس میں تملیک شرط نہیں ہے اور مال دار یااصول و فروع کو بھی نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے۔

لہذا اگر گائے کو  اللہ کے راستے میں صدقہ  کرنے کی نیت بطور نذر نہ ہو  بلکہ نفلی  صدقہ  کی نیت کی ہو تو اس کوذبح کر کے بیٹے کی شادی کے موقع پر لوگوں کو کھلانا جائز ہے  فقیر یا مالدار  سب اس سے کھا سکتے ہیں ۔

 

قال الله تعالى:﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴾ (البقرة:215)

لأن ‌صدقة ‌التطوع الأولى دفعها إلى الأصول والفروع۔(البحرالرائق ،باب دفع الزكاة للزوجة،ج:2،ص262)

وأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة۔(بدائع الصنائع،فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه،ج:2،ص47)


فتویٰ نمبر : 10209/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں