بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

دوائی کی کوئی پراڈکٹ اپنے نام پرتیار کرنا


سوال

ایک ڈاکٹر دوائی  کی ایک پراڈکٹ اپنے نام پر الگ پیک میں تیار کرنا چاہتا ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ فرض کریں کہ ایک دوائی ہے وورین کے نام سے تو   ڈاکٹر دوائی کے پلانٹ والوں سے کہتا ہے کہ میرے لیے اسی یعنی وورین کے فارمولہ میں ایک الگ پیک میں میرے نام ( جو نام وہ دینا چاہے) پر ایک پراڈکٹ تیار کرو جس کی کوالٹی بھی اچھی ہو، بیماری میں کام بھی صحیح کرے اور بیمار کےلیے مفید بھی ہو تو اس طرح دوائی کے پلانٹ والوں سے  اپنے نام پر دوائی کی ایک پراڈکٹ تیارکرنا اور اس کو لانچ کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  کسی چیز کو کسی ڈبہ میں  پیک  کرے اور اس  کےلیے کوئی ایسا نام رکھ دے جو کسی کے استعمال میں نہ ہو اور نہ ہی اس سے گاہک کو دھوکہ ہو اور نہ ہی قانوناً منع ہو توشرعاً اس  کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر ڈاکٹر  پلانٹ والوں سے اپنے نام پر الگ پیک میں دوائی کی کوئی پراڈکٹ تیار کرکے اس کےلیے الگ نام رکھے جس نام  پر کسی اور کمپنی کی کوئی دوائی موجود نہ ہو، نیز دوائی  کوالٹی کے اعتبار سے  بھی اچھی ہو، بیمار کےلیے بھی  مفید ہواس کے علاوہ اس میں  کسی اور قسم کا کوئی دھوکہ نہ ہو، قانوناً بھی اس کی اجازت ہو تو اس طرح کوئی پراڈکٹ پلانٹ والوں سے تیار کروانے کی گنجائش ہے۔

 

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟» ، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس» ، ثم قال: «من غش فليس منا»(سنن الترمذي، ‌‌أبواب البيوع، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع، ج: 3، ص: 598)

‌طاعة ‌الإمام ‌فيما ليس بمعصية فرض.( البحر الرائق، كتاب السير، باب البغاة، ج: 5، ص: 152)

وضابط الغش المحرم أن يشتمل المبيع على وصف نقص لو علم به المشتري امتنع عن شرائه فكل ما كان كذلك يكون غشا وكل ما لا يكون كذلك لا يكون غشا محرما.( حاشية منحة الحالق على البحر الرائق،کتاب البیع، باب العيب:ج: 6، ص:38)


فتویٰ نمبر : 5999/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں