بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

فلیٹس کے بیچ بنی مسجد کا حکم


سوال

 آج کل اکثر جگہوں پر فلیٹوں کے درمیان جو مسجدیں تعمیر ہوگئی ہیں  ان کا شرعی حکم کیا ہے ؟ کیونکہ اکثر فلیٹوں کے گراؤنڈ فلور پر دکانیں ہو تی ہیں اور پہلی منزل کے کچھ حصے پر مسجد ہوتی ہے اور بقیہ اُوپر کی منزلوں پر رہائشی فلیٹ ہوتے ہیں بلکہ بعض جگہ اونچی عمارت ہو تو ایک مسجد دوسرے فلور پر اور دوسری مسجد آٹھویں یا دسویں فلور پر ہوتی ہے ۔ اور ان فلیٹوں کی نہ چھت اپنی ہوتی ہے نہ زمین اپنی ہوتی ہے- اسی طرح اللّٰہ کے گھر مسجد کی بھی نہ چھت اپنی ہوتی ہے نہ زمین اپنی ہوتی ہےاور ظاہر ہے لوگ اپنے رہائشی فلیٹ میں اپنی ضرورت کے تمام کام کرتے ہیں- مثلاً حاجت کہ لیے باتھ روم کا استعمال اور نہانا دھونا وغیرہ کرتے ہیں اور اپنے ازدواجی تعلقات قائم کرتے ہیں ،کیا اس طرح مسجد کا تقدس پامال نہیں ہوتا ہوگا ۔ جبکہ میں نے آپ کے ایک فتویٰ میں   پڑھا تھا کہ شرعی مسجد وہ ہوتی جو زمین سے لیکر آسمان تک مسجد کیلئے وقف ہو یعنی اس کی زمین کے نیچے اور چھت کے اوپر کسی اور کی ملکیت نہ ہو ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں کیا فلیٹوں کے درمیان مسجد کی تعمیر کرنا جائز ہے؟ اور اس طرح کی مسجد جو فلیٹوں کے درمیان بنی ہوئی ہو اس میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں  اس مسئلے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عمارت   میں ایک خاص  جگہ نماز پڑھنے کے لیے مختص کر لی جائے  جب کہ اس کے  اوپر اور نیچے کی منزلوں میں لوگوں کی رہائش گاہیں اور دکانیں وغیرہ  ہوں تو ایسی صورت میں یہ جگہ مصلی(جائے نماز) کے حکم میں ہو گی مسجد کےنہیں ،لہذا اس کے اوپر اور نیچے کی منزلوں کو دنیاوی  ضروریات  اور بشری تقاضوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے،اور یہ جگہ اگرچہ مسجد شرعی نہ ہو گی لیکن  اس میں باجماعت نماز پڑھنے کی صورت میں  جماعت کی فضلیت حاصل ہو گی تاہم اس میں اعتکاف نہیں کر سکتے۔

صورت مسئولہ کے مطابق   اپارٹمنٹ اور بلڈنگوں  میں جو جگہ نماز پڑھنے کے لیے مختص کی جاتی ہے وہ مسجد شرعی کے حکم میں نہیں ہوتی  بلکہ مصلی کی حیثیت  رکھتی  ہے،اگر مسجد دور  ہو تو اس بلڈنگ میں مصلی بنانا شرعا جائز ہے تاہم اس کے احکام مسجد کے نہ ہوں گے۔

 

قال: "‌ومن ‌جعل ‌مسجدا ‌تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق، وعزله عن ملكه فله أن يبيعه، وإن مات يورث عنه" لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به۔(الهداية،كتاب الوقف،ج:3ص:20)

قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا ‌أن ‌يكون ‌سفله ‌وعلوه ‌مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الوقف،ج:4:ص358)

‌قيم ‌المسجد‌لا ‌يجوزله أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فنائه؛ لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته وهذا لا يجوز، والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد.(الفتاوی الھندیة،كتاب الوقف،ج:2ص:462)


فتویٰ نمبر : 6038/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں