بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھوتے وقت اغلام بازی کا خیال پیدا ہونے سے حرمت مصاہرت کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص کسی عورت کا ہاتھ بلا حائل پکڑ لے، اور اس وقت اس کو شہوت نہ ہو، لیکن پکڑنے کے بعد اس میں شہوت پیدا ہو جائے، اور ساتھ ہی اس کا خیال اور خواہش وطی فی دبر کی جانب ہو جائے، جبکہ اسے وطی فی فرج کا شبہ بھی نہ ہو، اور وہ فوراً پیچھے ہٹ جائے، تو اس صورت میں احناف کی رائے کیا ہے؟

جواب

واضح ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت (جس کی عمر نو  سال سے زیادہ ہو)  کو شہوت کے ساتھ چھو لے یا بوسہ لے اور درمیان میں کوئی ایسا حائل نہ ہو جو حرارت کےلیے مانع ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے،  بشرطیکہ چھوتے وقت انزال نہ ہوا ہو، حرمت مصاہرت کی صورت میں مرد اور عورت کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے کسی عورت کا ہاتھ بغیر کسی حائل کے پکڑا ہو اور اس کے جسم کی حرارت محسوس کی اور انزال نہ ہوا   تو اس طرح شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے  جس کی وجہ سے ان کے اصول و فروع  ایک دوسرے پر حرام  ہوں گے۔

 

(و) حرم أيضا بالصهرية (‌أصل ‌مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا....هذا إذا لم ينزل، فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة، به يفتى.

(قوله: وأصل ممسوسته إلخ) ؛ ‌لأن ‌المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط...... (قوله: بشهوة) أي ولو من أحدهما. ( الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح،  فصل في حرمۃ المصاهرة، ج:4، ص: 107)

ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة كذا في التبيين، و الفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها. ( الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، باب المحرمات، القسم الثاني: المحرمات بالصهرية، ج:1، ص: 303)


فتویٰ نمبر : 7058/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں